انٹرنیشنل

جرمن حکومت نے خطرناک مجرموں کو واپس افغانستان بھیجنے کا اعلان کردیا

جرمن وزیر داخلہ نینسی فیزر نےکہا کہ جرمنی افغانستان جنگ کا حصہ نہ بننے والے ملکوں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے تاکہ طالبان کے ساتھ براہ راست معاملات کئے بغیر مجرموں کو افغانستان بھیجنے کے طریقے تلاش کیے جاسکیں

میونخ(ویب ڈیسک)جرمن حکومت نے خطرناک مجرموں کو واپس افغانستان بھیجنے کا اعلان کردیا۔رپورٹ کے مطابق جرمن وزیر داخلہ نینسی فیزر نےکہا کہ جرمنی افغانستان جنگ کا حصہ نہ بننے والے ملکوں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے تاکہ طالبان کے ساتھ براہ راست معاملات کئے بغیر مجرموں کو افغانستان بھیجنے کے طریقے تلاش کیے جاسکیں۔ وزیر داخلہ فیسر نےبتایا،”ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں کہ ہم ایک بار پھر خطرناک اسلام پسندوں اور پرتشدد مجرموں کو افغانستان بھیج سکیں۔”

انہوں نے کہا، "ہم مختلف ملکوں کے ساتھ خفیہ مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ افغانستان بھیجنے کیلئے دوبارہ ملک بدری کے راستے کھولے جاسکیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "جرمنی کی سلامتی کے مفادات واضح طور پر مقدم ہیں۔” 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد جرمنی نے افغانستان میں ملک بدری کو مکمل طور پر روک دیا تھااور کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیاتھا۔

گزشتہ ماہ ایک 25 سالہ افغان پر، خنجر سے حملے میں ایک پولیس افسر کی ہلاکت کے الزام کے بعد، اس طرح کی ملک بدری دوبارہ شروع کرنے کی بحث پھر سے ابھری ہے۔ مغربی جرمنی کے شہر مانہیم میں 31 مئی 2024 کو چاقو کے حملے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کے بعد میڈیا نے اطلاع دی تھی کہ نشانہ بننے والوں میں مذہب اسلام کا ایک نقاد بھی شامل تھا۔

پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ مانہیم کے چوک پر ایک شخص نے چاقو سے حملہ کر کے کئی لوگوں کو زخمی کر دیا۔ اس کے بعد پولیس نے حملہ آور پر گولی چلائی جس کے نتیجے میں وہ بھی زخمی ہوگیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button