انٹرنیشنل

جموں کے سکھ اور ہندو بھی حریت پسندوں کی آزادی کی تحریک میں شامل

کشمیری حریت پسند پچھلی کئی دہائیوں سے بھارت سے الگ ہوکر ایک خود مختار ریاست کا وجود چاہتے ہیں

سری نگر(ویب ڈیسک) جموں سے تعلق رکھنے والے سکھ اور ہندو برادری بھی آزادی کی تحریک میں شامل ہیں بھارتی ایجنسیوں کو رپورٹس موصول ہونے لگیں ،واضح ہو کہ کشمیری حریت پسند پچھلی کئی دہائیوں سے بھارت سے الگ ہوکر ایک خود مختار ریاست کا وجود چاہتے ہیں جبکہ بھارتی فورسز مقبوضہ وادی میں مسلسل ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے وزارت داخلہ کو رپورٹ پیش کی ہے جس میں بتیا گیا ہے کہ جموں کے ہندو اور سکھ بھی اب حریت پسندوں کی تحریک آزادی میں شامل ہو چکے ہیں ۔

جموں و کشمیر کی تحریکِ آزادی ایک ایسا راز ہے جو آہستہ آہستہ دنیا پر کھل رہا ہے اور جب یہ راز پوری طرح دنیا پر کھلے گا تو وہ سب مغالطے ختم ہو جائیں گے جو ہندوستان سال ہا سال سے پھیلا رہا ہے۔1947کے بعد جب بھی ریاست جموں وکشمیر میں ہندوستان کے ظلم وستم کے خلاف کوئی آواز بلند ہوئی تو اس آواز کو دہشت گردی قرار دیاگیا اور الزام لگایاگیا کہ اس دہشت گردی کے پیچھے پاکستان ہے۔ پھر5 اگست 2019 آیا۔ ہندوستان نے پورے جموں و کشمیر میں ایک غیر علانیہ مارشل لاء نافذ کردیا۔

کرفیو کے ذریعے کشمیریوں کو ان کے گھروں میں قید کردیاگیا۔ ہندوستان کے وزیرِاعظم نریندر مودی کا خیال تھا کہ بندوقوں کے خوف، کمیونیکیشن بلیک آئوٹ، بھوک اور بیماری کے ذریعے کشمیریوں کے حوصلے ٹوٹ جائیں گے اور چند ہفتے کی اعصابی جنگ کے بعد وہ ہتھیار پھینک دیں گے لیکن یہ چند ہفتے مہینوں میں بدل گئے۔ کشمیریوں کا رابطہ پوری دنیا سے کاٹ دیاگیا۔ وہ اپنے شہروں اور محلوں میں قیدی بنے رہے۔ اُن پر نمازِ جمعہ کی ادائیگی بند کردی گئی لیکن اُنہیں جب بھی موقع ملا وہ پاکستان کا پرچم لہراتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور نعرئہ تکبیر بلند کرتے ہوئے سینوں پر گولیاں کھاتے رہے۔ اُن کی جرأت و بہادری اور ثابت قدمی دُنیا کے لئے ایک معمہ بن گئی۔ جب نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ سے لے کے دی اکانومسٹ لندن نے بھی بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی مذمت شرو ع کی تو آہستہ آہستہ یہ راز کھلنے لگا کہ کشمیریوں پر2019 کا ظلم پہلی دفعہ نہیں ہوا۔ اُن پر یہ ظلم 1819 سے جاری ہے 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button