انٹرنیشنل

طالبان حکومت کے خلاف 2 مسلح گروہوں کے حملوں میں اضافہ

اقوام متحدہ نے افغانستان کی صورت حال پر ایک سہ ماہی رپورٹ میں طالبان کی حکومت کے خلاف برسرپیکار مسلح گروہوں کے حملوں میں اضافے کو دستاویز کیا گیا ہے

جینوا(ویب ڈیسک) اقوام متحدہ نے افغانستان کی صورت حال پر ایک سہ ماہی رپورٹ میں طالبان کی حکومت کے خلاف برسرپیکار مسلح گروہوں کے حملوں میں اضافے کو دستاویز کیا گیا ہے۔ اس نے افغان رہنماؤں کے درمیان "مسلسل” اندرونی تناؤ پر بھی توجہ دلائی ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن، یا UNAMA نے یہ جائزہ جاری کیاہے، جس میں کہا گیا کہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے حال ہی میں اسے سلامتی کونسل میں پیش کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلح اپوزیشن کا علاقائی کنٹرول پر طالبان کی گرفت کے خلاف "کوئی نمایاں چیلنج سامنے نہیں آیا”۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیاہے،”دو مخالف گروپوں نے رپورٹنگ کی مدت کے دوران تصدیق شدہ حملے کیے، جو افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف)تھے۔” یہ دونوں گروپ، کابل کی بین الاقوامی سطح پر حمایت یافتہ سابق حکومت کے سیاسی اور فوجی حکام پر مشتمل ہیں جنہیں اس وقت کے باغی طالبان نے اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button