انٹرنیشنل

مسلمانوں کی مخالفت،بھارتی سپریم کورٹ نے ایک اورمتنازع فیصلہ سنا دیا

مسلم خاتون کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 125 کے تحت اپنے سابقہ شوہر سے اس وقت تک کفالت حاصل کرنے کا حق ہے جب تک کہ اس کی شادی نہیں ہو جاتی

نیو دہلی(ویب ڈیسک)مسلمانوں کی مخالفت،بھارتی سپریم کورٹ نے ایک اورمتنازع فیصلہ سنا دیا بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا کہ مطلقہ مسلم خاتون کو اپنے سابق شوہر سے زر نان و نققہ (کفالت) حاصل کرنے کا حق ہے۔جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح کی بنچ نے تلنگانہ ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مطلقہ مسلم خاتون کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 125 کے تحت اپنے سابقہ شوہر سے اس وقت تک کفالت حاصل کرنے کا حق ہے جب تک کہ اس کی شادی نہیں ہو جاتی۔


عدالت نے یہ فیصلہ محمد عبدالصمد نامی ایک شخص کی عرضی پرسنایا، جنہوں نے تلنگانہ ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں عدالت عالیہ نے ان کی مطلقہ بیوی کو دس ہزار روپے ماہانہ عبوری کفالت کے طورپر ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ عبدالصمد نے اپنی بیوی کو تین طلاق (طلاق بدعت) دے دی تھی۔ ان کی اہلیہ نے اس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا اور کفالت کے طورپر بیس ہزار روپے ماہانہ کا مطالبہ کیا تھا۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے سن 1985کے شاہ بانو کیس کی یادیں تازہ کردی ہیں۔ شاہ بانو بیگم بنام محمد احمد خان(شوہر)کیس میں بھی عدالت نے مطلقہ خاتون کو گزارہ بھتہ دینے کا حکم سنایا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف بھارت میں مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے تھے۔ جس کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی کی قیادت والی کانگریس حکومت کو سپریم کورٹ کے فیصلے کو پارلیمنٹ سے کالعدم کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑا تھا۔


بھارت میں مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کا کہنا ہے کہ اسلامی قوانین کے لحاظ سے کوئی بھی مطلقہ خاتون صرف عدت کی مدت تک ہی کفالت حاصل کرنے کی حقدار ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کا کہنا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے متفق نہیں ہے۔ بورڈ کا کہناہے کہ اگر مطلقہ خاتون کی کفالت کرنی پڑی تو کوئی شوہر اپنی بیوی کو طلاق ہی کیوں دے گا اور اگر اس فیصلے کو درست مانا جائے تو شاہ بانو کیس کو چیلنج ہی کیوں کیا جاتا؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button