کھوج بلاگ

وفاقی بجٹ 2024-2025 – "حقائق، وہم یا الفاظ کا گورکھ دھندہ”

،عام آدمی صرف اور صرف یہ سمجھنے کی کوشش کرہا ہے کہ مہنگائی میں کس قدر کمی آئی

لاہور(تحریر،شکیلہ فاطمہ) وفاقی بجٹ برائے سال 2024/2025 پیش کئے جانے کے بعد بھی عوام الناس میں یہ ابہام اور شکوک وشبہات پائے جارہے ہیں ،عام آدمی صرف اور صرف یہ سمجھنے کی کوشش کرہا ہے کہ مہنگائی میں کس قدر کمی آئی وہ اپنے بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے کے قابل رہے گا یا اسے اہل خانہ سمیت فاقہ زدہ زندگی گزارنے پر مجبور رہنا پڑے گا ۔ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کا بجٹ پیش کردیا ہے۔ بجٹ کے بارے میں بہت سارے افسانے اور وہم ہیں۔ بجٹ سے مراد ایسی ایک سالہ معاشی دستاویز ہے جس پر بہت سے لوگ یقین رکھتے ہیں ، لیکن جسکا وجود عموما عدم ہوتا ہے یا وہم، گمان، غلط خیال یا تصور ہوتا پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ دستاویز عام طور پر چھ ماہ کے بعد سمجھ آنا شروع ہوتی ہے۔
یہ تاثر کہ پبلک بجٹنگ ایگزیکٹو کا خصوصی تحفظ ہے۔ اس لئے بجٹ کو خفیہ طور پر مرتب کیاجانا چاہیے ورنہ وہ مالیاتی منڈیوں کو پریشان کر سکتے ہیں اور افواہ سازی کا بازار گرم کر کے لوگوں کو لوٹ سکتے ہیں اور یہ کہ غیر سرکاری مداخلت بجٹ کے لفافے کی سالمیت کو تباہ کر سکتی ہے۔ قانون سازوں اور سول سوسائٹی کو مجموعی طور پر ملک کے مفادات کے برعکس اپنے حلقوں کے مفادات کو آگے بڑھانے میں زیادہ دلچسپی ہو سکتی ہے۔ اور یہ حکومت کا حق ہے کہ وہ بجٹ کو اندرونی طور پر بند عمل میں پیش کرے۔ اور مقننہ کے ذریعہ اس پر منظوری کی سٹیمپ لگوانا حکومت کا استحقاق ہے۔اگرچہ یہ درست ہے کہ مقننہ کو باضابطہ طور پر تجاویز پیش کرنا ایگزیکٹو کی ذمہ داری ہے، لیکن بجٹ کی تشکیل کے عمل میں تاجر برادری، کسان ، صنعت کار ، سول سوسائٹی اور دیگرشہریوں کی شرکت شامل ہونی چاہیے۔ اس طرح بجٹ کے عمل پر بحث گہری ہوتی ہے اور بجٹ پر فیصلہ کرنے کے عمل میں نئی معلومات سامنے آتی ہیں، جس سے بجٹ کی درست سمت کا تعین کرنے اور ترجیحات کو درست کرنے کا موقع میسر آتا ہے۔

یہ دلیل کہ بجٹ سازی کے عمل کی کشادگی مالیاتی منڈی کو پریشان کر دے گی ایک وہم ہے۔ درحقیقت، بجٹ کی رازداری قیاس آرائیوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جبکہ شفافیت سے پالیسی کے انتخاب کا پتہ چل جاتا ہے۔ جس سے سرمایہ کاروں اور کاروباری لوگوں کے لیے زیادہ باخبر فیصلہ کرنا آسان ہو تا ہے۔ یہ مفروضہ کہ غیر سرکاری مداخلت بجٹ کے لفافے کی سالمیت کو تباہ کر سکتی ہے برقرار نہیں رہ سکتی کیونکہ بجٹ کی تعریف بعض مفروضوں پر مبنی منصوبہ ہے ۔ غیر حکومتی مداخلت سے نئے تناظر سامنے آتے ہیں جن کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نظریہ کہ قانون ساز اور سول سوسائٹی مشترکہ مفادات کے مخالف مفادات کی پیروی کریں گے،نمائندہ جمہوریت اور عوامی شرکت کے پورے تصور کو چیلنج کرتا ہے۔ مناسب جواب کو اس عمل سے خارج نہیں کیا جا سکتا خاص طور پر کیونکہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ایگزیکٹو کسی تنگ دلچسپی کا نہیں کرے گا۔
لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ عیاں ہے کہ کل جب پاکستان کے وزیر خزانہ جو بنیادی طور پر ایک ٹیکنوکریٹ ہیں اور سیاسی تجربہ نہ ہونے کے برابر ہے، بجت دستاویز اسمبلی میں پڑھی تو شاید ہی کوئی ممبر اسمبلی یا دیگر کوئی شخص ایسا ہو جس کو اسکی مکمل سمجھ آئی ہو۔ ہر شخص وہم، تفکر اور لاعلمی کا مظہر تھا ۔ پہلے بجٹ الفاط کا گورکھ دھندہ سمجھا جاتا تھا لیکن اس بار الفاط کی تکرار نے اس کو مزید گنجلک بنا دیا ہے اور یہ گورکھ دھندہ پلس بن گیا ہے۔
یہ ایسا بجٹ ہے جس میں کوئی خوشخبری نہیں ہے بلکہ ایک درد ناک پلان ہے جس سے ہر پاکستانی متاثر ہو گا۔ یہ ایک عجیب داستان ہے جو شاید پڑھنے والے کی سمجھ سے بھی بالاتر ہے اسکو بھی پتہ نہیں ہے کہ کون سا منصوبہ شروع ہوگا کون سا مکمل ہوگا کتنے فیصد مختص بجٹ کا خرچ کیا جائے گا۔ اگرچہ بجٹ کی تفصیلات پوسٹ بجٹ پریس بریفنگ میں بتائی جاتی ہیں لیکن اس بار شاید اس بجت کی تمام جزئیات کا احاطہ ممکن نہ ہو اور دوران سال کئی ضمنی بجٹ دینے پڑیں۔ وزیر خزانہ نے ترقیاتی منصوبہ جات کی تفصیل بتائے بغیر ایک رقم بتا دی کی اس سے انفراسٹرکچر تیار کیا جائے گا، لیکن وہ کون سا ہوگا یہ انکو خود بھی معلوم نہیں ہے۔
ایک بات جو سمجھ آتی ہے کہ حکومت اس وقت نیلام بازار سجانا چاہتی ہے کہ سب کچھ بیچ دو، پی آئی اے بیچ دو، ہوائی اڈے بیچ دو، ریلوے بیچ دو، سٹیل مل بیچ دو ، نیشنل بنک بیچ دو، سڑکیں گروی رکھ دو ، بڑی عمارتیں گروی رکھ دو ، ڈسکوز بیچ دو، جنکوز بیچ دو، زمین بیچ دو لوگ بیچ دو ، یوں لگتا ہے جیسے سب کچھ بیچ کر بھاگنے کا ارادہ ہو۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جو شخص ملک سے باہر منتقل ہوتا ہے وہ اپنا سب کچھ اونے پونے بیچ کر چلا جاتا ہے اور یہی صورتحال کچھ اس بجٹ مین نظر آتی ہے۔ دوسری اہم بات جو سمجھ آئی ہے کہ ہر چیز پر ٹیکس لگا دو ابھی صوبے بھی ٹیکس لگائیں گے۔ پاکستان میں نوزائیدہ بچہ بھی باالواسطہ ٹیکس کی زد میں لایا گیا ہے، ڈبے کے دودھ پر ٹیکس، کھانے پینے کی تمام اشیاؑء پر ٹیکس، زمین خریدو ٹیکس، بیچو ٹیکس، کاشت کرو ٹیکس اور اگر فصل ہوجائے تو خریدنے سے انکار کر دو ، اگر فصل بکے گی نہیں تو کاشتکار ٹیکس کہاں سے دے گا۔

اب تو لگتا ہے حکومت کا بیانیہ ہے ‘ ٹکیس لگاو ، بیچ دو اور بھاگ جاو’ لیکن 25 کروڑ کہاں جائیں گے ہم آنے والی نسلوں کیلئے کیا بچا رہے ہیں، گھر کی سب چیزیں بیچ کے کیا آنے والی نسلوں کو صرف گھر کی دیواریں دینا ہیں وہ بھی گروی رکھی ہوئی۔ میڈیا پر کل شام ایک شور برپا ہوا کہ ملازمین کی تنخواہوں میں 20 سے 25 فیصد اظافہ کر دیا گیا ہے اور اب انکو خوشحال بنا دیا گیا ہے، اسی طرح پینشنرز کو بھی 15 فیصد کا اضافہ دیا گیا ہے لیکن عملی طور پر ٹیکس میں ہیرا پھیری کا جادو چلا کر ان ملازمین اور پینشنرز کو اس وقت جو تنخواہ یا پینشن مل رہی ہے اس میں بھی کمی کر دی گئی ہے ۔ انکو ایک روٹی دے کر دو روٹیاں واپس لے لی گئی ہیں۔
وزیر قانون نے اس الفاظ کے گورکھ دھندے کو ایسے پڑھا جس پر وہ شاباش کے مستحق ہیں کیونکہ جو چیز صرف اس حد تک سمجھ آئے کہ اس میں چمڑی ادھیڑ پروگرام ہے لیکن اس کے باوجود خوشی سے پڑھا جائے تو سمجھ لیں کہ عوام کو سبق سکھانا مقصود ہے ملک کی معیشت تباہ کرنے اور بھاگنے کا ارادہ ہے۔ بجٹ میں ٹیکسسز کی بھرمار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جنرل سیلز ٹیکس 16 سے بڑھا کر 18 فیصد اور تمام استثناء ختم کر دئیے گئے ہیں، ایکسائز ڈیوٹی کو بڑھا دیا گیا ہے، زمین کی خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس کو بڑھا دیا گیا ہے اور اس کے علاوہ گین ٹیکس میں ہوشربا اضافہ کیا گیا ہے جو 15 فیصد تک ہے ابھی صوبائی ٹیکس آج بڑھائے جائیں گے جن میں رجسٹریشن ، تحصیل اور انتقال ٹیکس اور سٹمپ پیپر کی مالیت بڑھائی جائے گی ، یعنی اگر آپ زمین خریدتے ہیں تو آپکو ڈی سی ریٹ کے مطابق کم از کم 45 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا اسی طرح بیچنے والے سے بھی گین ٹیکس لیا جائے گا خواہ وہ مجبوری میں باپ دادا کی وراثتی زمین بیچ رہا ہو۔
جناب اورنگ زیب نے مندرجہ ذیل بجٹ کے خدوخال بیان فرمائے؛ 1۔ ایف بی آر 12970 ارب روپے عوام سے ٹیکسوں کی مد میں اکٹھا کرے گا۔ جو کہ رواں سال سے 38 فیصد زیادہ ہے۔ ( یہ ہدف صرف لوگوں کی چمڑیاں اتار کر ہی پورا کیا جاسکتا ہے ) 2۔ نان ٹیکس ریونیو 3587 ارب روپے 3۔ وفاقی حکومت کی خالص امدنی 9119 ارب روپے ( یعنی آمدن چونی خرچہ روپیہ) 4۔ وفاقی حکومت کے کل اخراجات 18877 ارب روپے
5۔ سود کی ادائیگی 9775 ارب روپے 6۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام 1400 ارب روپے جس میں سے 100 ارب نامعلوم افراد لگائیں گے۔
7۔ دفاع 2122 ارب سول انتظامیہ 839 ارب روپے پینشن 1014 اور سبسڈی 1363 ارب روپے 8۔ اور 1777 ارب روپے کشمیر ، گلگت بلتستان، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، ریلوے، آئی ٹی سابقہ فاٹا ، ترسیلات، اور اعلی تعلیم کیلئے مختص کیئے گئے ہیں۔ ( کسکا کتنا حصہ ہے نامعلوم)۔ اور ملازمین کے ہاوس رینٹ، میڈیکل الاوئس اور کنوینس الاونس کے بارے خاموشی ہے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وزیر قانون نے باقی ساری تقریر مکرر اوع تکرار کے ساتھ وہی پڑھی جو لکھی ہوئی تھی لیکن گریڈ 17 سے 22 کی تنخواہ میں اضافہ 22 کی بجائے 20 فیصد پڑھا اسی طرح پینشن کا بھی 22 کی بجائے 15 فیصد پڑھا۔
آج حسب معمول وزیر خزانہ کو پریس بریفنگ کے ذریعے بجٹ سمجھانا ہے دیکھئے اس الفاط کے گورکھ دھندے اور لکھی اور پڑھی گئی رقومات اور اعداد و شمار کی الجھی گتھیوں کو کیسے سلجھاتے ہیں، البتہ پنجاب میں لگتا ہے وزیر اعلی مریم نواز اپنے صوبے کے عوام کو ریلیف دینے میں سنجیدہ ہیں کیونکہ وہ سمجھتی ہین کہ چچا جان نے عوام سے اچھا نہیں کیا۔ لہذا انتظار کرتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button