کھوج بلاگ

"پنجاب بجٹ 2024-2025،  صوبے کی خوشحالی کی نوید”

تحریر : شکیلہ فاطمہ

*پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلی نے اپنے پہلے بجٹ سے اپنی سیاسی بصیرت کو ثابت کردیا۔

*اگر بجٹ کے اہداف حاصل کر لئے گئے تو مریم نواز پنجاب کی سب سے کامیاب ترین وزیر اعلی ہونگی۔

*مریم نواز شریف نے پہلے ہی بجٹ میں صوبے کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کی بنیاد رکھ دی۔

جمعرات کو صوبائی اسمبلی میں پنجاب کے وزیر خزانہ نے صوبے کی پہلی خاتون وزیر اعلی مریم نواز شریف کی سربراہی میں صوبہ پنجاب کا تاریخی بجٹ پیش کر دیا بجٹ کا کل حجم 5446 ارب روپے ہے جس میں زندگی کے تمام شعبوں کی پائیدار ترقی کیلئے خاطرخواہ فنڈز نہ صرف مختض کئے گئے بلکہ انکی دستیابی کوبھی یقینی بنایا گیا۔ مجوزہ بجٹ کا حجم رواں مالی سال کے مقابلے میں 980 ارب زیادہ ہے۔ مریم نواز شریف نے اپنی وزارت اعلی کے پہلے 100 دن میں اپنی ترجیحات کو واضح کیا اور انکی سمت کا تعین کیا۔ گندم کے معاملے پر ان پر خاصی تنقید بھی ہوئی لیکن بجٹ میں زراعت اور کاشتکاروں کی ترقی و خوشحالی کو یقینی بنانے کیلئے ایک قابل عمل، پائیدار اور بڑے پیکج کا اعلان کیا گیا۔جس مطابق کاشتکاروں کیلئے 75 ارب روپے کے بلا سود قرضہ جات جاری کرنے کیلئے مختص کئے جانے کی تجویز ہے۔ اس پیکج میں کسان کارڈ کا اجراء جس کیلئے ساڑھے بارہ ایکڑ تک کے پانچ لاکھ کسانوں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ سات ہزار زرعی ٹیوب ویلوں کو سولر سسٹم پر منتقل کرنے کیلئے  سبسڈی اور بلا سود قرضے کی فراہمی،  چیف منسٹر گرین ٹریکٹر سکیم کے تحت تیس ارب روپے کی رقم کی فراہمی، مال مویشی پالنے کیلئے لائیو سٹاک کارڈ کا اجراء جس کیلئے دو ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں، 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے غریب گھرانوں کو مفت سولر پینل فراہم کرنے کا منصوبہ  اور ماڈرن زرعی مالز جیسے منصوبے دیہی علاقوں اور زرعی ترقی کیلئے ایک انقلابی تحریک ہے اگر ان منصوبوں کیلئے مختص فنڈز اگر سو فیصد میرٹ پر مالی سال 2024-2025 میں استعمال کر لئے گئے تو صوبہ پنجاب پائیدار ترقی اور خوشحالی کی پٹڑی پر چڑھ جائے گا اور اگلے چار سال میں سبز انقلاب برپا کر دے گا۔ لیکن شرط میرٹ، ایماندار ٹیم اور خلوص نیت کے ساتھ مسلسل کام کرنا ہوگا۔

اس کے علاوہ دس ارب روپے بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کیلئے دس ارب روپے، رمضان پیکج کیلئے 30 ارب روپے ، مریم کی دستک پروگرام کیلئے دو ارب روپے، ترقیاتی پروگرام کیلئے ریکارڈ فنڈز 810 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ ان منصوبوں میں ڈھائی ہزار کلومیٹر کے قریب سڑکوں کی مرمت و بحالی شامل ہے اس کے علاوہ سرگودھا فیصل آباد روڈ جو صوبے کی سب سے مصروف شاہراہ ہے اور جس سے کروڑوں روپے ٹول اکٹھا کیا جاتا ہے عرصہ دراز سے نظر انداز تھی اسکو دوہرا کیا جانا، ملتان وہاڑی روڈ کو دوہرا کیا جانا، سرگودھا انسٹیٹیوٹ کا کارڈیالوجی کا قیام، لاہور میں پہلے سرکاری کینسر ہسپتال کا قیام، ایل ڈی اے کے لئے 35 ارب روپے جبکہ مری ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے دس ارب روپے کی رقم کی فراہمی اس کے ساتھ صوبے کے تمام ڈسٹرکٹ ہسپتالوں  کی ایمرجنسی کو آپ  گریڈ کر کے مفت ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانا، دس ارب روپے سے لیپ ٹاپ سکیم کا اجراء آئی ٹی سٹی کا قیام اور آئی ٹی کی ترقی کیلئے خطیر رقم کی دستیابی، تمام تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال،  رورل ہیلتھ سنٹرز اور بنیادی مراکز صحت کی بحالی کو یقینی بنانا، ائیر ایمبولینس اور ایمرجنسی سروسز کو جدید خطوط پر استوار کرنا، پرائمری اور سپیسلائزڈ ہیلتھ کے شعبوں کو جدید بنانا، خواتین کے وراثتی اور دیگر مقدمات و مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر طے کرنے کیلئے وسائل کی دستیابی،  صحافیوں کی ہیلتھ انشورنس کیلئے ایک ارب روپے ، تنخواہوں میں وفاق کے برابر اضافہ کرنا، انتہائی غریب خاندانوں کیلئے نگہبان اور معذور افراد کیلئے ہمت کارڈ کا اجراء کر کے مالی امداد فراہم کرنا، صوبے میں پانچ نئی ایکسپریس ویز کی تعمیر کیلئے فنڈز کا اجراء،  یونیورسٹیوں کے کیمپسز کے قیام کیلئے پانج ارب روپے مختص کرنا، ہر ضلع اور حلقے میں کھیلوں اور صحت مند سرگرمیوں کیلئے گراونڈ بنانا، ڈیجٹلائزیشن کو ترجیح دینا اور اس کیلئے نئے منصوبے شروع کرنا، سب ایک خواب لگتا ہے جسکو مریم نواز شریف نے حقیقت کا روپ دینے کے عزم کا اظہار کر دیا ہے۔ مجموعی طور پر 77 نئے میگا پراجیکٹ شروع کئے جارہے ہیں ، ماضی کی ڈیڈ سکیموں کو زندہ کر کے مکمل کیا جارہا ہے ، پولیس کو وسائل کی فراہمی کیلئے پونے دو کھرب کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے۔ تمام جاری سکیموں کو جلد مکمل کرنے کیلئے اگلے مالی سال میں وسائل کی دستیابی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ اسی طرح صحت کے ساتھ صفائی کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ صوبے میں درخت لگانے، اور سموگ کے خاتمے کیلئے مناسب فنڈز مختص کئے جارہے ہیں۔ سیف سٹی پراجیکٹ کو توسیع دی جارہی ہے اور مزید ماحول دوست بسوں کو صوبے کے پانچ بڑے شہروں میں لایا جارہا ہے۔
اگرچہ کچھ شعبے ایسے ہیں جن پر کام کرنے کی ضرورت تھی اور ان کیلئے سکیمیں لانا چاہیں تھیں جیسے مری کیلئے دس ارب روپے رکھے جارہے ہیں اسی طرح صوبے میں ٹوارزم کے فروغ کیلئے کلر کہار، فورٹ منرو، چولستان، خطہ پوٹھوہار،  وادی سون سکیسر اور دیگر مقامات کا انفراسٹرکچر بہتر کرنے اور ٹورسٹ کیلئے بہترین انتظامات ضروری ہیں، نہری نظام کی بحالی میں نہروں کی ری الائنمنٹ، نہروں کے کنارے قبضے چھڑوانے اور شجرکاری کرنا،راجباہوں اور کھالوں کو پکا کرنا اور محکمہ نہر کے سارے بنگلہ جات کو بحال کر کے ایس ڈی اوز اور دیگر عملے کی حاضری کو یقینی بنانا اور پرانے نہری نظام بنگلہ جات کو اصل حالت میں بحال کرکے پکنک سپاٹ بنانا اور ریسٹ ہاوسز کو عوام کیلئے کھول کر ریونیو جنریٹ کرنے کے ساتھ سیاحت کو فروغ دینا۔ صوبے میں ریلویز نیٹ ورک کے ساتھ شجرکاری اور موٹرویز اور ہائی ویز کے ساتھ متعلقہ علاقے کی مناسبت سے پھلدار درختوں کو لگانا اور موٹرویز کے ساتھ اگر حکومت یہ کام نہ کر سکے تو زمین مقامی زمینداروں کو لمبے عرصے کیلئے لیز پر دینا یا خواہش مند افراد کو دینا جو اس علاقے کے حساب سے باغات لگائیں۔

بے شک کرنے کیلئے بہت کچھ ہے کیونکہ اس سے پہلے کبھی درست سمت کا تعین ہی نہیں کیا گیا اور ترجیحات کو میرٹ سے ہٹ کر متعین کیا گیا جس سے وسائل کا ضیائع ہوا۔ مریم نواز شریف کے پہلے بجٹ سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ وہ صوبے کے مسائل سے آگاہ بھی ہیں اور انکو جلد از جلد حل بھی کرنا چاہتی ہیں ۔ بجٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے ترجیحات کا تعین عین صوبے اور عوام کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کیا ہے جس سے انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ سیاسی بصیرت کے ساتھ انتظامی صلاحیت کی بھی مالک ہیں اور مسائل نہ صرف حل کرنے بلکہ پنجاب کو ایک ترقی یافتہ صوبہ بنانے کی مکمل  صلاحیت کی مالک ہیں۔ انہوں آغاز شاندار اور قابل تعریف کیا ہے اگر انہوں نے میرٹ پر بیوروکریسی اور دیگر ٹیم کو ساتھ رکھا اور نکمے افسران و اہلکاروں سے جان چھڑوا لی، خوشامدیوں پر زیادہ بھروسہ نہ کیا تو پنجاب اگلے پنجاب سال میں ایک مثالی صوبہ ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button