دلچسپ و عجیب

کورونا لاک ڈاؤن میں موبائل کتب خانوں کی مقبولیت

امریکا میں مارچ کے لاک ڈاؤن کےبعد لوگوں نے اپنے اپنے انداز سےموبائل اور مفت لائبریریوں کا اجرا کردیا

امریکا میں مارچ کے لاک ڈاؤن کےبعد لوگوں نے اپنےاپنے اندازسےموبائل اورمفت لائبریریوں کا اجراکردیا ہے۔ان میں کرسچیان گیل شامل ہیں جو لایبریری میں کام کرتی ہیں اورانہوں نےگاڑی کی ڈکی،پارکوں میں چھوٹے خانوں اورشیشے والےکیسوں میں کتابیں رکھنا شروع کردیں۔ اگرچہ کئی برس سے پارکوں اورعوامی مقامات پرچھوٹٰے خوبصورت کتب خانوں کا رواج فروغ پارہا ہے لیکن لاک ڈاؤن کے بعد یہ رحجان تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ اسی طرح دنیا کے دیگرممالک میں بھی یہ رحجان فروغ پارہا ہے۔

مارچ 2020 میں ہڈسن کی ایک غیرسرکاری تنظیم نے اپنی طرف سے ایک لاکھ کتابوں کا عطیہ مکمل کرلیا جو بالخصوص لاطینی اور میکسیکو عوام کے لیے مخصوص تھیں۔ پورے امریکہ میں لوگ بڑی تعداد میں ان کتب خانوں کو استعمال کررہے ہیں۔

فری لائبریری تنظیم کے لوگ کتب خانوں کو صاف کرتے اور ہفتہ وارکتابوں کو تبدیل کرنے کا کام بھی کرتےہیں۔ مشی گن کی خاتون جینیلی کےمطابق ان کے علاقے کے 300 افراد کو عوامی لائبریری تک رسائی حاصل نہ تھی۔ اس لیے انہوں نے ایک چھوٹی موبائل لائبریری کا اجرا کیا ہے۔

اسی طرح یوسمائٹ وادی میں انٹرنیٹ کی سہولیات دستیاب نہیں اور یہاں کتب بینی کے شوقین بھی ہیں۔ اب یہاں موبائل کتب خانے پر لوگوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے۔ اسی طرح کئی لائبریریاں میکسکو سے لے کر نارتھ کیرولائنا تک بنائی گئی ہیں۔

Tags
Back to top button
Close