دلچسپ و عجیبفیچرڈ پوسٹ

پاک ایران سرحد علاقے چاغی میں کھجوروں کے درخت کا سب سے بڑا دشمن کون سا جانور؟ ان کو کیوں جلایا جا رہا ہے؟ حیران کن تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی

چاغی میں گذشتہ کچھ برسوں سے تیز دانتوں والے ایک ریگستانی چوہے نے کھجور کے درختوں پر حملے کرکے انہیں اپنی خوراک بنانا شروع کر دیا ہے
پاک ایران سرحد علاقے چاغی میں کھجوروں کے درخت کا سب سے بڑا دشمن کون سا جانور؟ ان کو کیوں جلایا جا رہا ہے؟ حیران کن تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق عبدالستار یارمحمدزئی کہتے ہیں کہ ان کے علاقے میں گذشتہ کچھ برسوں سے تیز دانتوں والے ایک ریگستانی چوہے نے کھجور کے درختوں پر حملے کر کے انھیں اپنی خوراک بنانا شروع کر دیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ‘تقریبا 2005 سے ایک طرح کے چوہے کہیں سے آئے ہیں جو کبھی ان درختوں کی جڑوں اور کبھی بالائی حصے میں سوراخ کرکے نرم حصے کو کھا جاتے ہیں، جس کی وجہ سے درخت پہلے خشک ہوتے ہیں اور پھر مر جاتے ہیں۔ اس علاقے کی زمین نرم ہے، چنانچہ ان چوہوں نے زیر زمین جگہ بنا لی ہے اور زیادہ تر وہ باہر نظر نہیں آتے کہ کوئی انھیں دیکھ کر مار سکے۔

عبدالستار کے مطابق ‘ہمیں تب معلوم ہوتا ہے جب کھجور کے درخت کی شاخیں خشک ہو کر گرچکی ہوتی ہیں۔ پھر ہمیں اس درخت کو جلانا پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ کے لیے مرجاتا ہے، پھر بھی ان (جلے ہوئے درختوں)میں سو میں سے بمشکل چند ایک بچ جاتے ہیں اور ان چھوٹے (کھجور کے)درختوں کو یہ چوہا جڑ سمیت کھا جاتا ہے۔ ایک درخت کو اپنی خوراک بنانے کے بعد چوہے کو دوسرے درخت تک زمین کے اوپر سے جانے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہ نرم زمین کے اندر سوراخ کرکے دوسرے درخت تک پہنچ جاتا ہے اور پھر دوسرے درخت کی بھی شاخیں گرجانے کے بعد درخت کے مالک کو معلوم ہوتا ہے کہ درخت مر چکا ہے۔ عبدالستار بتاتے ہیں کہ یہاں کے لوگ غریب ہیں جن کا ذریعہ معاش کھجور کی فصل ہے اس کے علاوہ یہاں کچھ بھی نہیں۔ کھجور کے درخت ہماری زندگی کا حصہ ہیں اور لوگ اس حوالے سے بہت پریشان ہیں۔ انھوں نے حکومت سے اس معاملے پر توجہ دینے اور مدد کی درخواست کی ہے تاکہ اس بلا اور مصیبت سے جان چھوٹ سکے۔

گوالشتاپ کے ایک اور رہائشی حاجی نذر محمد نے بتایا کہ راجے اور وادیان سمیت گرد و نواح میں بھی چوہوں نے کھجور کے درختوں کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق چوہوں کا شکار بننے والے ہزاروں درخت خشک ہو کر زمین بوس ہو چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے آبا و اجداد نے یہاں کھجور کے دو تین لاکھ درخت لگائے جو مختلف بیماریوں سمیت چوہوں کے حملے کے سبب کم ہوتے گئے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے علاقے میں زندگی کی بنیادی ضروریات بشمول بجلی اور پانی تک نہیں وہ دوسرے علاقے سے میٹھا پانی لاتے ہیں کیونکہ گوالشتاپ کا زیر زمین پانی کھارا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.