دلچسپ و عجیب

یہ تتلیاں ہر سال ہزاروں میل پرواز کرتی ہیں!

تصویر میں دکھائی گئی تتلی ’’مونارک بٹرفلائی‘‘ کہلاتی ہے جو امریکا اور کینیڈا کے سرد شمالی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ اس تتلی نے آج تک دنیا کو حیران کیا ہوا ہے۔

یہ تتلیوں کی واحد قسم ہے جو ہر سال خزاں کے موسم میں ہزاروں میل پرواز کرکے وسطی میکسیکو کے جنگلات تک پہنچتی ہے۔

وہاں یہ تقریباً چھ مہینے تک مسلسل سوتی رہتی ہے اور جیسے ہی بہار کا موسم شروع ہوتا ہے، یہ واپسی کا سفر شروع کرتی ہے اور، ایک بار پھر، ہزاروں میل پرواز کرکے واپس وہیں پہنچ جاتی ہے کہ جہاں سے اس نے خزاں کے آغاز میں اُڑان بھری تھی۔مونارک تتلیوں کے پروں کا پھیلاؤ صرف 4 اِنچ ہوتا ہے جبکہ وہ نصف گرام (0.5 گرام) جتنی معمولی وزنی ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود ان کا ہر سال ہزاروں میل پرواز کرنا خود انسانوں کےلیے حیرت کا باعث ہے۔

اور پھر جیسے ہی ستمبر کے مہینے میں دن اور رات کی لمبائی برابر ہوتی ہے، یعنی خزاں کا آغاز ہوتا ہے، تو یہ تتلیاں غول در غول پرواز کرتے ہوئے اُن علاقوں کی سمت نقل مکانی کرنے لگتی ہیں جو خاصے جنوب میں ہزاروں کلومیٹر دُور واقع ہیں۔

امریکا اور کینیڈا کے شمالی علاقوں میں سردیوں کا موسم ناقابلِ برداشت حد تک ٹھنڈا ہوتا ہے جبکہ وسطی میکسیکو کے جنگلات میں سردیوں کی شدت خاصی کم ہوتی ہے۔لہذا، شدید سرد موسم کی سختی سے بچ کر خود کو زندہ رکھنے کےلیے، مونارک تتلیاں ہر سال ہزاروں میل دور وسطی میکسیکو کے جنگلات تک پہنچتی ہیں۔وہاں پہنچ کر یہ اپنے لیے محفوظ ٹھکانہ تلاش کرتی ہیں جہاں یہ اگلے چھ ماہ تک مسلسل سوتی رہتی ہیں، یہاں تک کہ مارچ کے مہینے میں بہار کا موسم بالکل سر پر آجاتا ہے۔بہار کے قریب آتے ہی مونارک تتلیاں جاگ جاتی ہیں اور وہ واپسی کی تیاری شروع کردیتی ہیں۔

مارچ کے مہینے میں جیسے ہی دن اور رات کی لمبائی برابر ہوتی ہے، یہ واپسی کےلیے پرواز شروع کردیتی ہیں اور ایک بار پھر سے ہزاروں کلومیٹر پرواز کرتے ہوئے وہیں جا پہنچتی ہیں کہ جہاں سے انہوں نے خزاں کے آغاز پر اپنا سفر شروع کیا تھا… یعنی امریکا اور کینیڈا کے شمالی علاقوں میں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.