شوبز

Khouj Exclusive..”اداکاری کی بے شمار آفرز ہیں لیکن۔۔۔”حدیقہ کیانی نے پہلی بار سچ بتا دیا

گلوکارہ حدیقہ کیانی کے کیرئر کا پہلا ٹی وی ڈرامہ "رقیب سے” آئندہ ہفتے ہم ٹی وی سے نشر کیا جائے گا جس کے ڈائریکٹر کاشف نثار ہیں۔

ڈرامے کی اختتامی ریکارڈنگ کے دوران باری سٹوڈیو میں حدیقہ کیانی نے”کھوج نیوز” سے ملاقات میں اداکاری کے حوالہ سے اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کئی سالوں سے اداکاری کی آفرز ہورہی ہیں لیکن میں نے ہمیشہ ہی سب کو انکار کیا لیکن جب اس پراجیکٹ کے لئے مجھے مومنہ درید کی کال آئی اور انہوں نے کاسٹ اور دیگر تفصیلات بتائیں تو انکار نہ کرسکی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ سب سے پہلے  مجھے شعیب منصور نے اداکاری کی پیشکش کی تھی۔

اپنے پہلے پراجیکٹ کے بارے میں ان کا کہنا تھا ک یہ کہانی چھوٹے چھوٹے جذبات  کی عکاسی کرتی ہے،صرف ہیرو ہیروئین کی لوسٹوری نہیں،پلاٹ باقی کہانیوں سے خاصا مختلف اور ہر کردار اپنی جگہ مضبوط اور حقیقی زندگیوں کے اس قدر قریب ہے کہ میں چاہتی بھی تو اس آفرکو رد نہیں کر سکتی تھی۔یہ کردار کرنے کے لئے ایک مہینہ پہلے ہی گھر میں شلواریں قمیضیں پہننا شروع کر دیں تھیں سوچتی تھی کہ اس کردار کا بچپن کیسا ہو گا ۔ ریکارڈنگ کے دوران بہت بار ایسا ہوا کہ میں خود پر قابو نہ رکھ سکی آنکھوں سے آنسو نکل آئے ، سیٹ پر سناٹا سا چھا گیا اور نارمل ہونے تک مجھے اکیلا چھوڑ دیا گیا۔ثانیہ سعید اور نعمان اعجاز نے مجھے سمجھایا کہ کسی بھی کردار کو کرنے کے لئے اس میں ڈوب جانا بہت اچھی بات ہوتی ہے لیکن کسی کردار میں ہی پھنس کے رہ جانا مناسب نہیں ہوتا ۔بچپن سے کیمرے کا سامنا کررہی ہوں اس چیز نے شوٹنگ کے دوران بہت مدد کی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نےبتایا کہ اشف نثار نے بہت زیادہ ری ٹیکس نہیں لیے میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے اگر آرٹسٹ حقیقی تاثرات دے رہا ہوتوپھر میں تبدیلی کی غرض سے ری ٹیکس کروانے کو مناسب نہیں سمجھتا۔حدیقہ کا ماننا ہے کہ ہر انسان کی زندگی میں اتار چڑھاﺅ آتے ہیں اور ہر انسان کی زندگی کے بہت سارے چیپٹرز مایوس کن ہوتے ہیں لیکن یہ انسان کی چوائس ہوتی ہے کہ وہ اس دکھ اور تکلیف کے ساتھ رہنا چاہتا ہے یا وہ آگے نکلنا چاہتا ہے ۔میں زندگی میں کئی بار مایوس ہوئی لیکن میں نے مایوسی کو سر پہ سوار نہیں کیا ،کبھی مایوسی سر پہ سوار ہوتی بھی ہے تو گھٹ جاتی ہوں خاموش ہو جاتی ہوں رونا دھونا پسند نہیں کرتی لیکن اگر کبھی روئی بھی ہوں تو اکیلے میں روئی ہوں۔حدیقہ شروع کی اقساط کی شوٹنگ سے قبل خاصی نروس ہوتی تھیں اس حد تک نروس کے جیسے کوئی چھوٹا بچہ پہلی بار سکول جانے سے پہلے نروس ہوتا ہے انہیں یہ ہی چیز بے چین کر دیتی تھی کہ پتہ نہیں وہ اس کردار کے ساتھ کتنا انصاف کر پائیں گی اور لوگ پسند بھی کریں گے یا نہیں ۔

حدیقہ کیانی نے مزید بتایا کہ ” رقیب سے” کا او ایس ٹی میں نے کمپوز کیا اور گایا ہے جس کی شاعری میری والدہ خاور کیانی نے کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button