شوبز

بالی ووڈ میں کام کرنے سے زیادہ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں کسانوں کے احتجاج میں شامل ہوں‘ بھارتی اداکارہ کی مودی سرکار کے خلاف بغاوت کا اعلان

بھارتی اداکارہ سونیا جانتی تھی کہ کسانوں کے احتجاج میں حصہ لینے سے ان کے ابھرتے ہوئے کیریئر کو خطرہ لاحق ہو جائے گا

بالی ووڈ میں کام کرنے سے زیادہ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں کسانوں کے احتجاج میں شامل ہوں‘ بھارتی اداکارہ کی مودی سرکار کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق مشہور شخصیات اکثر صرف انھی مہمات کی حمایت میں آواز اٹھاتی ہیں جو انھیں پسند آتی ہیں اور ایک انڈین اداکارہ نے اپنے کیریئر کو کسانوں کے حقوق کے لیے لڑنے کے لیے پوری طرح قربان کر دیا ہے۔ سونیا من نے بتایا میری فلم کی اس ماہ شوٹنگ شروع ہونے والی تھی لیکن انھوں نے یہ فلم مجھ سے واپس لے لی ہے۔ سونیا 2012 سے فلموں میں اداکاری کررہی ہیں اور اب تک مختلف انڈین زبانوں میں ایک درجن سے زیادہ فلموں میں کام کر چکی ہیں۔ ان کی حالیہ ہندی فلم ہیپی ہارڈی اور ہیر جو لندن اور سکاٹ لینڈ میں فلمائی گئی تھی، 2020 میں ریلیز ہوئی تھی۔ یہ ان کی آخری فلم ہو سکتی ہے۔

انڈیا میں بالی وڈ کی اہمیت کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ سونیا نے خود اپنی مرضی سے دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بے تہاشا دولت، شہرت، پہچان اور نجانے کیا کیا۔۔۔ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن وہ کہتی ہیں کہ انھیں کوئی پچھتاوا نہیں۔ وہ کہتی ہیں بالی وڈ کے سیٹوں سے زیادہ خوشی اور اطمینان انھیں کسانوں کے احتجاج میں شامل ہو کر ملتا ہے۔

فلمی دنیا سے جڑے کسی بھی شخص کے لیے انڈین حکومت کی مخالفت مول لینا ایک خطرناک عمل ہو سکتا ہے۔ ماضی میں حکومت پر تنقید کرنے والے کئی اداکاروں کو اپنی فلموں کی نمائش کے سلسلے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سونیا جانتی تھی کہ کسانوں کے احتجاج میں حصہ لینے سے ان کے ابھرتے ہوئے کیریئر کو خطرہ لاحق ہو جائے گا اور انھیں متنبہ کیا گیا تھا کہ وہ حکومت کے خلاف بات نہ کریں لیکن اس سب کے باوجود انھوں نے ایسا کرنے کا فیصلہ کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button