شوبز

اوئے موٹی‘اگر تم نے ایک سال کے اندر یہ کام نا کیا تو میں تمہیں …………؟ کنواری بیوہ کی دکھ بھری داستان نے سب سننے والوں کو ہلا کر رکھ دیا

اس ڈرامے سے پہلے میں چونکہ زیادہ معروف اداکار نہیں تھا اس لیے کبھی یہ نہیں سوچا کہ لوگ میرے کام کو اتنی اہمیت دیں گے

اوئے موٹی‘اگر تم نے ایک سال کے اندر یہ کام نا کیا تو میں تمہیں …………؟ کنواری بیوہ کی دکھ بھری داستان نے سب سننے والوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ کچھ برسوں سے پاکستان میں ٹیلی ویژن ڈراموں کا انداز تفریحی سے زیادہ اصلاحی بن گیا ہے مگر بعض اوقات یہی اصلاحی موضوعات کچھ اس طرح پیش کیے جاتے ہیں کہ ناظرین کے جذبات مجروح کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ ایک سال کے اندر اپنا وزن کم کر لو اور اگر نہ کیا تو میں منگنی توڑ دوں گا۔۔۔ یہ ڈائیلاگ نجی چینل ایکسپریس ٹی وی کے ڈرامہ سیریز اوئے موٹی کے ایک کلپ میں سنا جا سکتا ہے۔ بظاہر اس سیریز میں ایسی کہانیاں دکھائی جا رہی ہیں جس میں زیادہ وزن والی خواتین کو درپیش حالات و مسائل دکھانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن اس کی نئی کہانی کا ایک 30 سیکنڈ کا کلپ گذشتہ کئی دنوں سے پاکستانی سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہے۔

ڈرامے میں مرکزی کردار ادا کرنے والے اداکار فرقان قریشی کا کہنا ہے کہ وائرل ہونے والے کلپ میں بولے گئے ڈائیلاگ کے پیچھے اصل کہانی کچھ اور ہے اور یہ الفاظ ان کے کردار نے اس لڑکی کی جان بچانے کے لیے کہے تھے۔ فرقان قریشی کا کہنا تھا کہ اس ڈرامے سے پہلے میں چونکہ زیادہ معروف اداکار نہیں تھا اس لیے کبھی یہ نہیں سوچا کہ لوگ میرے کام کو اتنی اہمیت دیں گے۔ لیکن اب میں سوچ سمجھ کر انتخاب کر رہا ہوں۔ ان کا کہنا تھا میں نے اس سے پہلے بھی کافی ڈرامے کیے جن کا سکرپٹ اچھا نہیں تھا لیکن کبھی کسی نے نوٹس نہیں کیا۔ اس وقت تو شاید میں قتل کو بھی بڑھا چڑھا کر دکھا دیتا تو کسی نے پرواہ نہیں کرنی تھی۔ اب خوشی ہے کہ لوگوں کو فرق پڑتا ہے۔

فرقان قریشی کا کہنا تھا لیکن مجھے افسوس ہے کہ میں نے کم عقلی میں ایسا سکرپٹ کیا اور یہ نہیں سمجھا کہ اس سے کوئی فرق پڑ سکتا ہے۔ اس ڈرامے کے پروڈیوسر سید مختار احمد کا کہنا ہے کہ تیس سیکنڈ کے کلپ سے پورے ڈرامے کے کہانی نہیں پتا چل سکتی۔ جس کلپ کا تذکرہ کیا جا رہا ہے اس کے پیچھے ایک جامع کہانی ہے۔ لڑکے کو لڑکی اور ڈاکٹر کے درمیان ہونے والی بات چیت کا پتا چل جاتا ہے اور وہ منگنی کے روز پر اسے چیلنج کرتا ہے۔ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اگر لڑکی نے اپنا وزن کم نہ کیا تو اس کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈرامہ چار حصوں میں بانٹا گیا ہے جس کے تحت ایک طرف تو میں یہ دکھانا چاہتا تھا کہ کس طرح ہمارے معاشرے میں خواتین کے وزن کو دیکھا جاتا ہے، جیسا کہ زیادہ وزن ہونا جرم ہو۔ ہمارے آس پاس یہ باتیں اکثر سننے کو ملتی ہیں۔ جبکہ ان خواتین کی قابلیت اور ذہانت پر بات نہیں کی جاتی۔

انھوں نے کہا کہ دوسری جانب کہانی میں اہم پہلو تھا کہ کس طرح اپنی صحت کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ ٹائٹل ٹریک پر ہونے والی تنقید پر سید مختار کا کہنا تھا کہ ٹائٹل ٹریک کے بول نہیں سنے گئے اور صرف ایک حصے کو لے کر تنقید کی گئی۔ ٹائٹل ٹریک میں اس لڑکی کو بارہا یہ یاد کرایا جا رہا ہے کہ تم ملکہ ہو، تمہیں لوگوں کے الفاظ سننے کی ضرورت نہیں۔ اوئے موٹی ٹائٹل اس لیے رکھا تھا کیونکہ یہ الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں اب زیادہ تر میلو ڈرامہ پسند کیا جاتا ہے۔ اور موضوعات پر بات نہیں کی جاتی۔ اس لیے اوئے موٹی ڈرامہ ان موضوعات کو سامنے لانے کی ایک کوشش ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.