شوبز

فنکار مالی بد حالی کا شکار؛حکومت نے آنکھیں بند کر لیں

بے روزگاری اور تنگ دستی کے سبب پنجاب کے مستحق فنکاروں نے حکومت سے فوری امدادی چیک جاری کرنے اور  روزانہ 2 گھنٹوں کے لئے تھیٹر کھولنے کی درخواست کی ہے۔

شوبز سے وابستہ افراد میں کچھ ایسے بھی ہیں جو گھر کا نظام چلانے کے لئے معمولی مزدوریاں کرنے پر مجبور ہیں۔ ایک آرٹسٹ رم جھم زیر تعمیر گھروں میں بطور مزدور کام کرتا ہے جبکہ 2 فنکار مزدوری کی غرض سے مسلم ٹاﺅن موڑ پر مزدور اڈے پر آتے ہیں جب کہ  چند روز قبل مسلسل بے روزگاری سے تنگ آ کر گرین ٹاﺅن کے سٹیج آرٹسٹ اعظم راہی نے خود کو آگ لگا کر خود کشی کر لی تھی۔ 27 سال تک اسٹیج پر کام کر نے والی سعدیہ شیخ گڑھی شاہو بازار میں نان ٹکی کی ریڑھی لگا کر زندگی کی گزر بسر کر رہی ہیں۔

فنکاروں کو مالی سپورٹ فراہم کرنے کے لئے پنجاب حکومت کی طرف سے آرٹسٹ سپورٹ فنڈز قائم ہے جس میں شیبا بٹ،ترنم ناز،سجاد طافو، سعید شوکی ،ناصر بٹ،رضی ملک،توقیر حسین،ثمینہ بٹ،صفدر حسین سمیت 2 ہزار کے قریب گلوکار، پروڈیوسرز، میوزیشنز، ٹیکنیشنز اور اداکار شامل ہیں،اب فنکاروں نے اس فنڈز میں سے فوری ادائیگیاں کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔پاکستان فلم ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری اعجاز کامرا ن کے مطابق پاکستان بننے کے بعد سے پہلی بار ایسا ہوا ہوگا جب مسلسل دوسری بار عیدالفطر پر سینما ہالز میں فلمیں ریلیز نہیں ہوں گی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ دو روز قبل ہی شہنشاہ غزل مہدی حسن کے شاگرد آصف مہدی بھی غربت اور کورونا کے خلاف جنگ لڑتے لڑے زندگی کی بازی ہار گئے، سنگر ایسوسی ایشن کے چیئرمین و معروف گلوکار انور رفیع نے2 روز قبل حکومت سے درخواست کی تھی کہ آصف جاوید کا نہ صرف فری علاج کیا جائے بلکہ ان کی مالی مدد بھی کی جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.