شوبزفیچرڈ پوسٹ

لگتا تھا کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا اور میں اپنے ان خدشات کا ذکر بھی کیا کہ مجھے پاگل؟ برٹنی اسپیئرز نے اہم راز سے پردہ اٹھا دیا

ابتدائی سالوں میں مجھے شدید احساس ہوتا تھا کہ والد انہیں قتل کروادیں گے اور پھر آگے چل کر انہیں پاگل ثابت کریں گے

لگتا تھا کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا اور میں اپنے ان خدشات کا ذکر بھی کیا کہ مجھے پاگل؟ برٹنی اسپیئرز نے اہم راز سے پردہ اٹھا دیا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق والد کی سرپرستی ختم کرنے کے کیس کی 14 جولائی کو ہونے والی سماعت میں برٹنی اسپیئرز نے ایک ہی مہینے میں دوسری بار فون کے ذریعے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ مذکورہ بیان سے قبل گزشتہ ماہ جون کے اختتام پر برٹنی اسپیئرز نے 13 سال میں پہلی بار مذکورہ معاملے پر عدالت میں فون کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔ ایک ہی مہینے میں دوسری بار عدالت میں ریکارڈ کروائے گئے بیان میں برٹنی اسپیئرز نے ایک بار پھر والد پر سنگین الزامات لگائے اور عدالت سے مطالبہ کیا کہ والد کی سرپرستی فوری طور پر ختم کی جائے۔ اداکارہ نے عدالت کو بتایا کہ سرپرستی کے ابتدائی سالوں میں انہیں شدید احساس ہوتا تھا کہ والد انہیں قتل کروادیں گے اور پھر آگے چل کر انہیں یہ احساس ہونے لگا کہ وہ انہیں پاگل ثابت کریں گے۔ انہوں نے والد کی سرپرستی کو ایک بار پھر توہین آمیز اور پرتشدد قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر آزاد کرکے اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے دی جائے۔

انٹرنیشنل میڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ عدالت نے برٹنی اسپیئرز کو اپنی مرضی کا وکیل مقرر کرنے کی اجازت دی تھی، جس کے بعد پہلی بار گلوکارہ کی مرضی کا وکیل عدالت میں پیش ہوا۔برٹنی اسپیئرز نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے مرضی کے مطابق میتھیو رسینگرٹ (Mathew Rosengart) کو وکیل مقرر کیا ہے۔ برٹنی اسپیئرز کا وکیل بھی عدالت میں پیش ہوا اور انہوں نے اپنے پہلے دن ہی عدالت سے مطالبہ کیا کہ گلوکارہ کی سرپرستی کا نظام ختم کرکے انہیں اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے دی جائے۔ عدالت نے برٹنی اسپیئرز اور ان کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد کیس کی سماعت ستمبر تک ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.