شوبز

دلیپ کمار، راجکپور اور امتیابھ بچن میں سے بڑا فن کار کون ہے؟ بالی ووڈ میں تہلکہ مچا دینے والے حقائق بے نقاب ہو گئے

سٹار آف دی ملینیم یعنی صدی کے عظیم ترین اداکار کا خطاب پانے والے امیتابھ بچن تو دلیپ کمار کی اداکاری کے شروع سے ہی مداح و مرید رہے ہیں

دلیپ کمار، راجکپور اور امتیابھ بچن میں سے بڑا فن کار کون ہے؟ بالی ووڈ میں تہلکہ مچا دینے والے حقائق بے نقاب ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دلیپ کمار نے اپنے ہم عصروں پر تو سبقت ثابت کر دی تھی لیکن پھر ان کا مقابلہ ایک ابھرتے ہوئے ستارے اور تازہ سپر سٹار امیتابھ بچن سے کیا جانے لگا۔ ایسا لگا کہ یہ مقابلہ دو نسلوں کے درمیان ہے۔ ایک نسل جو کہ اداس تھی جس کا اظہار دلیپ کمار کی فلم داغ اور دیوداس میں ہوتا ہے جبکہ دوسری نسل ناراض تھی جس کا اظہار امیتابھ بچن کے اینگری ینگ مین والی فلموں میں ہوتا ہے۔ سنہ 1982 میں فلمساز اور ہدایتکار رمیش سپی نے فلم شکتی میں اپنے اپنے زمانے کے دو ہر دلعزیز اداکاروں کو ایک ساتھ لانے کا کارنامہ انجام دیا اور دونوں کے پرستاروں نے اپنے اپنے انداز میں فلم کی کامیابی کا سہرا اپنے اپنے سٹار کے سر کر دیا لیکن فلم فیئر ایوارڈ نے اس فلم میں اداکاری کے لیے بہترین اداکار کا ایوارڈ دلیپ کمار کو دے کر اس بحث کو ختم کر دیا لیکن امیتابھ کے پرستار یہ الزام لگانے میں پیچھے نہیں رہے کہ امیتابھ کے بہت سے ایسے مناظر کو دلیپ کمار نے فلم سے نکلوا دیا جس میں وہ ان پر سبقت رکھتے تھے جبکہ دلیپ کمار کے پرستاروں نے کہا کہ امیتابھ تو خود دلیپ کمار کی کاپی ہیں اور جب ان کے سامنے ہی ان کے انداز میں اداکاری کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو ایک ہی سین کو بار بار ری ٹیک کیے جا رہے تھے۔ ایک بار امیتابھ نے بطور خاص اس منظر کے بارے میں، جس میں وہ فلم میں اپنے والد اشونی کمار کی گود میں دم توڑتے ہیں، کہا تھا کہ اس سین سے پہلے وہ بہت نروس تھے۔

اگرچہ اس فلم میں بیسٹ ایکٹر کا ایوارڈ دلیپ کمار کے حصے میں آیا لیکن ہدایتکار رمیش سپی نے کہا کہ جس طرح ایک ناراض بیٹے کا کردار امیتابھ نے ادا کیا کوئی دوسرا ایکٹر اس سے بہتر اداکاری نہیں کر سکتا تھا۔ بہرحال یہ واقعہ تو بہت مشہور ہے کہ اس فلم کو دیکھنے کے بعد دلیپ کمار کے دوست اور حریف راج کپور نے بنگلور سے فون کیا اور دلیپ کمار سے کہا: لاڈے آج فیصلہ ہو گیا کہ تم آج تک کے سب سے عظیم فنکار ہو۔ فلم پریم روگ کے دوران راج کپور نے رشی کپور کو ڈانٹتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے یوسف چاہیے۔ ایک منظر میں وہ شدت جذبات کا اظہار چاہتے تھے اور اس لیے انھیں یوسف کی تلاش تھی۔ شاید اسی وجہ سے دلیپ کمار کو بہت سے لوگ شہنشاہ جذبات بھی کہتے ہیں۔

دلیپ کمار کو انڈین سینما میں اداکاری کا آفتاب کہا جائے جس کے گرد فلم سٹارز کا نظام شمسی چکر کاٹتا ہے، تو بے جا نہ ہو گا۔ اس بات کا اعتراف ان کے زمانے کے سب سے بڑے حریف اور مداح راج کپور نے تو بہت پہلے کر لیا تھا اور پھر سٹار آف دی ملینیم یعنی صدی کے عظیم ترین اداکار کا خطاب پانے والے امیتابھ بچن تو دلیپ کمار کی اداکاری کے شروع سے ہی مداح و مرید رہے ہیں۔

بالی وڈ میں مقابلہ عام بات ہے چاہے وہ گائیکی کے شعبے میں ہو یا اداکاری کے۔ ایک زمانہ رہا کہ کوئی محمد رفیع کو سب سے بڑا مانتا رہا تو کوئی کشور کمار کو، کوئی مکیش کو تو کوئی طلعت محمود۔ اسی طرح لتا منگیشکر اور آشا بھونسلے کے درمیان بھی سخت مقابلہ رہا۔ اداکاروں اور اداکاراؤں میں یہ مقابلہ آج تک جاری ہے لیکن جو مقابلہ دلیپ کمار، راج کپور اور دیو آنند کے درمیان رہا وہ کسی دوسرے کے درمیان نہیں دیکھا گیا۔ اگرچہ اس زمانے کے سب سے کامیاب اداکار راجیندر کمار تھے جنھیں جوبلی کمار بھی کہا جاتا تھا (کیونکہ ان کی فلمیں سلور جوبلی اور گولڈن جوبلی مناتی تھیں) لیکن وہ اس مقابلے سے باہر تھے اور یہی حال ادکار راج کمار کا بھی تھا لیکن ان کے اپنے مداح بھی کم نہ تھے جو انھیں کسی سے کم شمار کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.