شوبز

"میرا نام ہے محبت”۔۔۔گلو بھائی کی فلم نے 45 سال مکمل کر لئے

غلام محی الدین پاکستان فلم انڈسٹری کے ایسے  اداکار ہیں جنہوں نے اپنے فلمی سفر کا آغاز پانچ دہائی پہلے محبت کے لافانی جذبے سے کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے لاتعداد مداح ان کی محبت کے سحر میں گرفتار ہوگئے۔ 

8 اگست 1975ء کو ہدایتکار شباب کیرانوی کی فلم ’میرا نام ہے محبت‘ ریلیز ہوئی جو اداکار غلام محی الدین اور بابرہ شریف کی شان دار پرفارمنس کے باعث سپرہٹ فلم ثابت ہوئی۔اس کے بعد ان دونوں فنکاروں کی اداکاری کی دُھوم مچ گئی، ’میرا نام ہے محبت‘  کے سدا بہار گیت آج بھی ہماری سماعتوں میں رس گھولتے ہیں۔

مہدی حسن اور ناہید اختر کی آواز میں یہ گیت ’یہ دنیا رہے نہ رہے میرے ہمدم، کہانی محبت کی زندہ رہے گی‘ آج بھی ٹیلی ویژن یا ریڈیو پر نشر کیا جاتا ہے تو سننے والوں کو فلمی موسیقی کے ایک حسین دور کی سیر کرنے کو ملتی ہے۔

’میرا نام ہے محبت‘ نے نہ صرف پاکستان میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی اسے بے حد پسند کیا گیا، ہمارے دوست ملک چین میں اس فلم کی نمائش 18 برس تک جاری رہی۔

’میرا نام ہے محبت‘ ایک رومانوی فلم تھی جس نے پاکستان فلم انڈسٹری کو ایک پہچان دی، غلام محی الدین نے اپنے فنی سفر کی ابتدا ریڈیو پاکستان اور ٹیلی ویژن سے کی۔ انہوں نے ریڈیو کے مقبول پروگرام بزمِ طلبہ میں بھی حصہ لیا، اس کے بعد معروف پروڈیوسر قاسم جلالی نے انہیں ڈرامہ ’کتنی آنکھیں کتنے خواب‘ میں موقع دیا۔ شباب کیرانوی نے جب یہ ڈرامہ دیکھا تو انہوں نے غلام محی الدین کو فلموں میں کام کرنے کی پیش کش کی۔

انہیں قاسم جلالی کے ڈرامے ’پڑوسی‘ کمال احمد رضوی کے ڈرامے ’صاحب، بیوی اور غلام‘‘ اور امیر امام کے مقبول ڈرامے ’انار کلی‘ میں بے حد پسند کیا گیا۔

انہوں نے جب فلم انڈسٹری میں قدم رکھا تو ندیم، وحید مراد اور محمد علی کے عروج کا دور تھا، ابتداء میں سو سے زیادہ فلمیں ان فنکاروں کے ساتھ کیں اور اپنی علیحدہ شناخت بنائی۔

بعد ازاں انہوں نے جاوید شیخ، سلطان راہی و دیگر کے ساتھ بھی کام کیا، غلام محی الدین نے تقریباً تین سو فلموں میں ہیرو اور ولن کے کردار ادا کیے۔

ان کی قابل ذکر فلموں میں ’شکوہ‘ ’شمع‘ ’سہیلی‘ ’آواز‘ ’ترانہ‘ ’نذرانہ‘ ’ایک ہی راستہ‘ ’گھائل‘ ’سوسائٹی گرل‘ ’مجھے گلے لگا لو‘ ’عشق عشق‘ ’مٹھی بھر چاول‘ ’محل میرے سپنوں کا‘ ’طاقت کا طوفان‘ ’شرمیلی‘ ’سلاخیں‘ ’کنارہ‘ ’لازوال‘ ’گونج‘ ’کندن‘ ’آگ ہی آگ‘ ’ضد‘ ’پرورش‘ ’بارات‘ ’آنسو اور شعلے‘ ’جینے کی راہ‘ ’خدا اور محبت‘ ’سن آف ان داتا‘ ’آمنا سامنا‘ ’عالمی جاسوس‘ ’پیاری‘ ’وڈیرا‘ و دیگر فلمیں شامل ہیں۔

نامور ناول نگار شوکت صدیقی کا لکھا ہوا مشہور زمانہ ناول ’خدا کی بستی‘ میں کام کرنے والی فنکارہ منور سلطانہ سے غلام محی الدین کی شادی ہوئی، شادی کے بعد منور سلطانہ نے شوبز کو چھوڑ دیا تھا، دونوں میاں بیوی نے ایک بیٹا اور دو بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کیا۔

ان کا بیٹا علی محی الدین تعلیم مکمل کرنے کے بعد شوبز کی جانب آگیا ہے، غلام محی الدین کو 2011ء میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز اور 2019ء میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.