شوبز

"صنف آہن”۔۔۔ کبریٰ خان اصلی ہتھیار چلاتے ہوئے زخمی

اداکارہ کبریٰ خان نے کہا ہے کہ ان کا  ڈرامہ دیکھ کر لوگوں نے ان سے متعلق کہا کہ ’لڑکی بڑی چالاک ہے مگر پیاری ہے‘۔

 کبریٰ خان نے ’مشعل‘ کا کردار ادا کرنے پر لوگوں کے تبصروں پر کھل کر بات کی اور یہ بھی بتایا کہ وہ کچھ عرصہ اسکرین سے کیوں غائب رہیں۔اداکارہ کے مطابق کورونا کی وجہ سے وہ کچھ عرصے تک اسکرین سے غائب تھیں کہ اس سے قبل وہ ’لندن نہیں جاؤں گی‘ فلم کی شوٹنگ میں مصروف تھیں، جس کی وجہ سے لوگوں کو ان کی غیر حاضری محسوس ہوئی۔کبریٰ خان نے انٹرویو کے دوران ’ہم کہاں کے سچے تھے‘ میں اپنے کردار پر کھل کر بات کی اور کہا کہ اگر ایماندری سے ڈرامے کا جائزہ لیا جائے تو ان کا کردار منفی یا شیطان لڑکی کا نہیں لگے گا۔

انہوں نے ڈرامے میں مشعل نامی لڑکی کا کردار ادا کیا ہے اور انہیں قدرے منفی کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔کبریٰ خان کا کہنا تھا کہ ڈرامے کے آغاز میں ان کا کردار اچھا ہوتا ہے مگر پھر ان کے کردار کے ساتھ ہونے والے واقعات نے انہیں قدرے شیطان بنایا۔انہوں نے دلیل دی کہ ڈرامے کے آغاز میں ان کے کردار کی ماہرہ خان کے کردار سے دوستی ہوتی ہے جب کہ ان کا کردار ’اسود‘ یعنی عثمان مختار کے کردار کو بچپن سے ہی چاہتا ہے مگر بدقسمتی سے وہ ماہرہ خان کے کردار سے محبت کرتا ہے۔

ان کے مطابق ایسی ہی دوسری چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے ان کا کردار شیطان بن جاتا ہے۔انہوں نے ’مشعل‘ کا کردار ادا کرنے پر لوگوں اور اہل خانہ کے تبصروں پر بھی کھل کر بات کی اور بتایا کہ ان کی والدہ ان کا کردار دیکھ کر رو پڑیں۔کبریٰ خان کے مطابق والدہ نے انہیں کہا کہ انہوں نے انہیں نہ تو ’مشعل‘ کی طرح پیدا کیا اور نہ ہی اس جیسی تربیت کی۔اداکارہ نے بتایا کہ لوگوں نے ان کا کردار دیکھنے کے بعد سوشل میڈیا پر طرح طرح کے تبصرے کیے اور انہیں پیغامات بھی بھیجے۔

لوگوں نے ان کے کردار سے متعلق کہا کہ ’مشعل‘ ہم کہاں کے سچے تھے کا ’نویان‘ ہیں جو ترک ڈرامے ارطغرل غازی کا منفی کردار ہے۔ان کے مطابق اسی طرح کئی لڑکوں نے ان کے کردار پر کہا کہ اگر ان جیسی خوبصورت ان کی کزن ہوتیں تو وہ انہیں قتل کردیتے یا خود مرجاتے۔اداکارہ نے بتایا کہ بعض لوگوں نے ان کا کردار دیکھ کر انہیں پیغامات بھجوائے کہ ’لڑکی بڑی چالاک ہے مگر پیاری بہت ہے‘۔

ان کے مطابق وہ اور ماہرہ خان ایک طرح سے ’لڑکوں‘ کی طرح ہی ہیں اور وہ عام طور پر شوٹنگ کے دوران لڑکوں جیسا لباس ہی پہن کر پہنچ جاتی ہیں۔کبریٰ خان نے یہ بھی بتایا کہ بچپن میں وہ لڑکوں کی طرح کھیلتی اور حرکتیں کرتی تھیں اور ان کی پرورش ایک طرح سے لڑکے کے طور پر ہوئی۔

انٹرویو کے دوران کبریٰ خان نے اپنے آنے والے ڈراموں ’سنگ ماہ‘ اور ’صنف آہن‘ کے حوالے سے بھی بات کی اور بتایا کہ ’سنگ ماہ‘ مقبول ڈرامے ’سنگ مر مر‘ کا سیکوئل نہیں ہے بلکہ اس کی کہانی منفرد ہے۔اسی دوران انہوں نے ’صنف آہن‘ کی شوٹنگ کے حوالے سے بھی بات کی اور انکشاف کیا کہ ڈرامے کی تمام کاسٹ نے اصلی ہتھیار چلائے ہیں۔

اداکارہ کے مطابق ’صنف آہن‘ میں دکھائی جانے والی تمام چیزیں اصلی ہیں، اگر انہیں کوئی وزن اٹھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے تو انہوں نے حقیقت میں وہ وزن اٹھایا تھا۔کبریٰ خان کا کہنا تھا کہ ’صنف آہن‘ کی شوٹنگ میں استعمال کی جانے والی زیادہ تر چیزیں اصلی ہیں، اگر انہیں ہتھیار چلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے تو انہوں نے حقیقی ہتھیار چلائے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ’صنف آہن‘ کی شوٹنگ کے دوران انہیں کچھ چوٹیں بھی لگیں اور ان کے کاندھے سمیت دیگر اعضا میں درد بھی رہا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.