شوبز

زندگی میں مرد کی کمی محسوس ہوتی ہے؛حدیقہ کیانی کا انکشاف

حدیقہ کیانی نے کہا ہے کہ وہ حد سے زیادہ کامیابی سے ڈرتی ہیں، کیوں کہ پہلے ہی انہوں نے موسیقی میں شہرت کی وجہ سے اپنے پیاروں کو خود سے دور جاتے دیکھا۔

حدیقہ کیانی نے انٹرویو میں اپنے کیریئر اور ذاتی زندگی پر کھل کر باتیں کیں اور بتایا کہ انہوں نے زمانہ طالب علمی سے ہی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔گلوکارہ نے بتایا کہ ان کی پیدائش راولپنڈی میں ہوئی تھی مگر جب وہ تین سال کی تھیں تب ان کے والد انتقال کر گئے تو وہ والدہ سمیت لاہور منتقل ہوگئیں۔ ان کے والد فوج میں تھے جب کہ ان کی والدہ پرنسپل تھیں اور انہوں نے کم عمری میں ہی پاکستان ٹیلی وژن پر بچوں کے پروگرامات سے کیریئر کا آغاز کیا۔ جب وہ کالج میں تھیں تب ہی انہوں نے پی ٹی وی پر کام کرکے کمائی کرنا شروع کی تھی اور والدہ کو مالی معاونت فراہم کرتی رہیں۔

کم عمر تھی تو لوگ باجی کہ کر مخاطب ہوتے تھے، گلوکارہ—فوٹو: انسٹاگرام

حدیقہ کیانی کے مطابق ان کے بھائی بھی ان کی طرح موسیقی میں دلچسپی رکھتے تھے اور انہوں نے پہلا گانا بھائی کی مدد سے ہی ریلیز کیا تھا۔ اگرچہ ان کے بھائی تنگ نظر نہیں تھے مگر اس وقت معاشرے کے دباؤ کی وجہ سے ان کے بھائی قدرے تنگ نظر تھے، جس وجہ سے انہیں بھائی سے ڈر بھی لگتا تھا۔حدیقہ کیانی کے مطابق 1990 کے بعد انہوں نے کم عمری میں ہی شہرت حاصل کی اور اس وقت علی حیدر جیسے گلوکار سپر اسٹار تھے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اداکاری کو موسیقی سے کافی مختلف اور مشکل قرار دیا اور اعتراف کیا کہ انہیں اداکاری کرنے سے زیادہ عوامی شہرت مل رہی ہے۔

حدیقہ کیانی نے ایک واقعہ بتایا کہ حال ہی میں انہوں نے کراچی میں ایک کنسرٹ کے دوران پرفارمنس کی تو لوگوں نے انہیں بطور گلوکارہ نہیں بلکہ اداکارہ پہچانا اور حیران رہ گئے کہ ’رقیب سے‘ ڈرامے کی ’سکینہ‘ تو اچھا گاتی ہیں۔گلوکارہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 25 سال تک گلوکاری کی مگر انہیں چند ڈراموں نے موسیقی سے زیادہ شہرت بخشی۔انہوں نے کہا کہ اداکاری کرنے کے بعد انہیں ایسا لگتا ہے کہ اب وہ لوگوں کے گھروں میں داخل ہو چکی ہیں، کیوں کہ پہلے وہ بطور گلوکارہ لوگوں سے دور تھیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان کا اداکاری کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر گزشتہ سال لاک ڈاؤن کے دوران ہم ٹی وی کی مومنہ درید نے انہیں فون کرکے ’رقیب سے‘ میں ’سکینہ‘ کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی۔ جلد ہی وہ تیسرے ڈرامے ’پنجرہ‘ میں بھی دکھائی دیں گی جو کہ مرحوم ڈراما ساز اسما نبیل کا لکھا گیا آخری ڈرامہ ہے۔ انتقال سےچند ماہ قبل اسما نبیل نے انہیں بلا کر اپنے ڈرامے کے کردار بارے بتایا تھا اور وہ پہلے ہی ڈرامے میں کاسٹ کرلی گئی تھیں۔انہوں نے اپنے دوسرے ڈرامے ’دوبارہ‘ میں اپنے کردار کے حوالے سے کہا کہ ان کے کردار کی خواتین بھی تعریفیں کر رہی ہیں۔گلوکارہ نے ایک سوال کے جواب میں مسکراتے ہوئے بتایا کہ وہ جلد پچاس سال کی ہوجائیں گی مگر فٹنس کی وجہ سے وہ 40 سال کی لگتی ہیں۔

حدیقہ کیانی نے کہا کہ جب انہوں نے کم عمری میں گلوکاری شروع کی تھی تو لوگ انہیں فون کرتے وقت یا مخاطب ہوتے وقت بھی زائد العمر سمجھ کر انہیں ’باجی‘ بلاتے تھے مگر اب جب کہ وہ زائدالعمر ہو رہی ہیں تب لوگ سمجھتے ہیں کہ اداکارہ جوان ہیں۔اداکارہ نے بتایا کہ انہیں جتنی شہرت ملی، وہ اس پر خدا کی شکر گزار ہیں اور انہیں دو دہائیاں قبل ہی ایک قریبی شخصیت نے کہا تھا کہ جتنی عزت و شہرت انہیں ملی ہے وہ اس پر شکرانے ادا کریں .گلوکارہ بننے کے لیے انہوں نے بہت بڑی قیمت چکائی، کیوں کہ انہیں شہرت ملنےاور ان کا نام مقبول ہونے کی وجہ سے ان سے اپنے پیارے بھی دور ہوئے۔ جب انہیں شہرت ملنے پر ان کے پیاروں نے خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہوئے ان سے دوری اختیار کی، تب سے ان کی خواہش ہے کہ انہیں کبھی حد سے زیادہ شہرت نہ ملے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ حد سے زیادہ شہرت سے اس لیے ڈرتی ہیں، کیوں کہ انہیں خدشہ ہے کہ ان سے دوسرے پیارے لوگ بھی الگ ہوجائیں گے۔

ذاتی زندگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حدیقہ کیانی نے بتایا کہ انہوں نے بیٹے ناد علی کو اکتوبر 2005 میں گود لیا تھا، تب ان کی پہلی طلاق ہو چکی تھی۔ حدیقہ کیانی نے اعتراف کی اکہ انہیں بعض اوقات اپنی زندگی میں ’مرد‘ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔گلوکارہ نے واضح کیا کہ جب انہیں کبھی اپنی کامیابیوں پر کسی سے بات کرنے کا دل کرتا ہے یا پھر اپنی ناکامیوں یا بے بسیوں پر رونے کا دل کرتا ہے تب ان کے پاس کسی ’مردُ کا ساتھ نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں وہ اپنے بیٹے اور بھتیجے کے ساتھ ہی جذبات کا اظہار کرتی ہیں۔ انہیں ایسا کوئی ساتھی نہیں چاہیے جو ان کا سہارا بننے کے بجائے ان کی کامیابیوں اور شہرت سے خود کو غیر محفوظ تصور کرکے ان کے لیے مسائل کھڑے کرے۔

حدیقہ کیانی نے واضح کیا کہ انہیں متعدد دیگر ڈراموں کے اسکرپٹ بھی ملے تھے مگر انہوں نے ان میں کام کرنے سے انکار کیا، کیوں کہ ان میں ان کے کردار اچھے نہیں تھے۔ اگر انہیں کسی مضبوط اور اچھے کردار کی فلم کی پیش کش ہوگی تو وہ اس میں کام کرنے سے متعلق ضرور سوچیں گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.