شوبز

مزاح کے بے تاج بادشاہ معین اختر کی آج گیارہویں برسی

مزاح کے بے تاج بادشاہ اور جنوبی ایشیا کے عظیم فنکار معین اختر کی آج گیارہویں برسی ہے، لیجنڈ معین اختر نے کامیڈی، اداکاری، کمپیئرنگ سمیت فنون لطیفہ کی ہر فیلڈ میں اپنا لوہا منوایا۔

کروڑوں چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والے معین اختر کو دنیا سے رخصت ہوئے گیارہ برس بیت گئے، مزاح سے لے کر پیروڈی تک اسٹیج سے ٹیلی ویژن تک معین اختر وہ نام ہے جس کے بغیر پاکستان ٹیلی ویژن اور اردو مزاح کی تاریخ ادھوری ہے۔

معین اختر 24 دسمبر 1950ء کو کراچی میں پیدا ہوئے، زندگی کی پہلی پرفارمنس شیکسپئیر کے ناول سے ماخوذ اسٹیج ڈرامے ’دی مرچنٹ آف وینس‘ میں محض 13 برس کی عمر میں دی جب کہ فنی کیرئیر کی باقاعدہ شروعات پاکستان کے پہلے یوم دفاع پر 1966ء میں کی۔

معین اختر کو فن کی اکیڈمی کہا جاتا تھاکیونکہ فلم ہو یا ٹی وی یا پھراسٹیج ڈرامہ انھوں نے ہر شعبے میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

معین اختر کے طنز ومزاح سے بھرپور جملوں نے تہذیب کا ایک نیا پہلو متعارف کروایا۔ساتھی اداکاروں کے مطابق معین اخترمحض اداکار ہی نہیں بلکہ ایک دور کا نام تھا جنھوں نے فنون لطیفہ کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کی دھاک بٹھائی، فنکارانہ خدمات کے اعتراف میں معین اختر کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازاگیا۔معین اختر کے معروف ٹی وی ڈراموں میں روزی، انتظار فرمائیے، بندر روڈ سے کیماڑی، آنگن ٹیڑھا، اسٹوڈیو ڈھائی، اسٹوڈیو پونے تین، یس سر نو سر اورعید ٹرین شامل ہیں، ڈرامہ روزی میں ان کاکردارشاید کبھی نہ بھلایا جاسکے۔

معین اختر کے کئی مشہور اسٹیج ڈرامے آج بھی لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہیں، ایک نجی چینل کے لیے ان کے طنز ومزاح سے بھرپور ٹی وی شوز کی، چارسو اقساط کا نشر ہونا بھی ایک منفرد ریکارڈ ہے۔

معین اختر 22 اپریل سن 2011 کو حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.