شوبز

بہت غربت دیکھی؛ماں کے علاج کے لئے پیسے نہیں تھے؛راحت فتح علی خان

گلوکار راحت فتح علی خان نے انکشاف کیا ہے کہ ایک وقت تھا کہ ان کے پاس مہمان کو کھانا کھلانے اور والدہ کے ڈائلاسز کے لیے بھی پیسے نہیں تھے۔

راحت فتح علی خان نے عید کے موقع پرٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے زندگی میں بہت مشکل حالات بھی دیکھے ہیں، ایسا نہیں ہے کہ ان کے پاس ہمیشہ سے ہی دولت اور شہرت تھی۔گلوکار کا کہنا تھا کہ اب جب وہ معاشی طور پر خوشحال ہو چکے ہیں، ان کے پاس اب بھی 1991 میں خریدی گئی کار موجود ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وہ ان کے پاس رہے، کیوں کہ اسے دیکھ کر انہیں حوصلہ ملتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں راحت فتح علی خان نے کہا کہ آج کل کے قوال استاد نصرت فتح علی خان کے گائے ہوئے کلام کو گاکر روزی روٹی کما رہے ہیں، نئے قوالوں کو قوالی کا کچھ علم نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ استاد نصرت فتح علی خان کو سننا ہی بہت کچھ سکھا دیتا ہے اور قوال اسی چیز کا فائدہ اٹھا کر ان کے گائے ہوئے کلاموں کو گا کر خود کو استاد نصرت فتح کا روحانی شاگرد قرار دیتے ہیں۔انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر قوالوں کو مشورہ دیا کہ انہیں قوالی سیکھنی چاہیے اور انہیں اپنی نئی نسل کو بھی سکھانا چاہیے۔

ماضی کو یاد کرتے ہوئے راحت فتح علی خان نے بتایا کہ استاد نصرت فتح علی خان انہیں غلطی کرنے پر انتہائی سخت لہجے میں ڈانٹا کرتے تھے مگر ان پر ہاتھ کبھی نہیں اٹھایا۔انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ استاد نصرت فتح علی خان اور والدہ کی دعاؤں کی وجہ سے کامیاب ہوئے۔

راحت فتح علی خان نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ان کی پہلی محبت اہلیہ ہیں اور انہوں نے ان سے پسند کی شادی کی تھی، ان کے سسرال والے انہیں رشتہ دینے کو تیار ہی نہ تھے اور انہوں نے بڑی مشکلوں سے رشتہ حاصل کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان کے صاحبزادے شاہ زمان بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کلاسیکل گائیکی کو سیکھ رہے ہیں، وہ ہارمونیم چلانے کے ماہر بن چکے ہیں۔راحت فتح علی خان نے شہرت ملنے پر شکرانے ادا کیے اور کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ ان کے پاس شروع سے ہی شہرت اور دولت تھی، انہوں نے مشکل حالات بھی دیکھے۔

راحت فتح علی خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنا پہلا سولو شو برطانوی شہر برمنگھم میں 1985 میں کیا تھا، اس وقت وہ کم عمر تھے اور لوگوں نے انہیں بچہ اور استاد نصرت فتح علی خان کا شاگرد سمجھ کر پیار دیا مگر اب وہ خود اپنی پہچان بنا چکے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر خدا کے شکرانے ادا کیے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی نے انہیں نہ صرف اعزازی ڈگری دی بلکہ ان کے نام سے وہاں اسٹوڈیو بھی بنایا۔انہوں نے ایک واقعہ بتایا کہ ماضی میں ان کے پاس علی الصبح ایک مہمان آئے تو اس وقت ان کے گھر کے کچن میں صرف دو انڈے اور ایک بریڈ پڑی تھا، انہوں نے وہ تیار کرکے مہمان کی مہمان نوازی کی، کیوں کہ اس وقت ان کے پاس مزید چیزیں خریدنے کے لیے بھی پیسے نہیں تھے۔

راحت فتح علی خان کے مطابق وہ مہمان انہیں ایک شو کے ایڈوانس پیسے دینے آئے تھے اور انہیں پہلے مقامی شو کے لیے ایڈوانس میں 20 ہزار روپے ملے، جو کہ ان کی والدہ کے ڈائلاسز کے پورے مہینے کا خرچ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسا وقت تھا کہ ان کے پاس والدہ کے ڈائلاسز کے لیے بھی پیسے نہیں تھے مگر ان پر خدا کا کرم ہوا اور ان کا مسئلہ حل ہوگیا۔راحت فتح علی خان کا کہنا تھا کہ زندگی میں مشکل حالات دیکھنے کی وجہ سے ان میں کبھی غرور آہی نہیں سکتا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.