شوبز

امیتابھ بچن اور سری دیوی کی والدہ نے پرڈیوسر کو قتل کرنے کی دھمکیاں کیوں دی تھیں؟

اداکاروں کے والدین افغانستان میں بھیجنے سے اس قدر خوفزدہ تھے کہ انہوں نے مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں

بھارت کی مقبول فلم’خدا گواہ’ کو گزشہ دنوں ریلیز ہوئے 30 سال مکمل ہوگئے’ امیتابھ بچن اور سری دیوی کی والدہ نے پرڈیوسر کو قتل کرنے کی دھمکیاں کیوں دی تھیں؟

تفصیلات کے مطابق 1992ء میں ریلیز ہونے والی فلم’خدا گواہ’ میں امیتابھ بچن اور اداکارہ سری دیوی نے مرکزی کردار ادا کیا تھا جسے مداحوں کی جانب سے کافی پسند بھی کیا گیا تھا۔ اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ یہ بالی ووڈ کی ان چند فلموں میں ہے جس کی شوٹنگ افغانستان میں کی گئی تھی ۔ رپورٹس کے مطابق جس وقت خدا گواہ کی شوٹنگ جاری تھی اس وقت افغانستان کے حالات کافی خراب تھے۔ فلم خدا گواہ کے پروڈیوسر منوج دیسائی نے گزشتہ دنوں اس فلم کے حوالے سے حیران کن انکشافات کیے، ان کا کہنا تھا کہ اداکاروں کے اہل خانہ فلم کی شوٹنگ کی وجہ سے کافی پریشان تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق منوج دیسائی نے کہا کہ اداکاروں کے والدین اپنے بچوں کو تنازعہ والے علاقے افغانستان میں بھیجنے سے اس قدر خوفزدہ تھے کہ انہوں نے مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ منوج دیسائی نے کہا کہ امیتابھ بچن کی والدہ تیجی بچن جی نے مجھے خبردار کیا تھا کہ ‘اگر میرے بیٹے کو کچھ بھی ہوتا ہے اور میری بہو جیا نے سفید ساڑی پہنی ، تو تمہاری بیوی کلپنا بھی تمہارے مرنے کی سفید ساڑی پہنے گی’۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی نہیں بلکہ سری دیوی کی والدہ نے بھی مجھے خبردار کیا کہ منوج اگر سری کو کچھ ہوا، تو کابل سے واپس مت آنا، میں تمہارا خون کروا دوں گی’۔ منوج دیسائی نے کہا کہ شکر ہے کہ شوٹنگ بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے مکمل ہوئی، افغانستان کے اس وقت کے صدر محمد نجیب اللہ نے ان کی بہت اچھی طرح دیکھ بھال کی، انہوں نے خدا گواہ کی کاسٹ اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مکمل سکیورٹی فراہم کی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.