شوبز

"پی ٹی وی میں خواتین کی عزت پامال ہونے لگی”

بے شمار افراد کے خلاف جنسی ہراسگی کے الزامات پر انکوائری شروع

پاکستان ٹیلیوژن کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹرمبشر توقیر نے اپنے مراکز میں احترام خواتین کی مہم کا آغاز کیا ہے۔

پی ٹی وی کے مختلف مقامات پر خواتین کے احترام کے حوالے سے درج سلوگن والی فلیکسز لگا دی گئی ہیں۔ایم ڈی کی جانب اس مہم کو شروع کرنے کا مقصد پی ٹی وی کے تمام مراکز میں بڑھتے ہوئے جنسی ہراسانی کے کیسز کو قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل پی ٹی وی کراچی مرکز کے سابق جنرل منیجر شجاعت اللہ کی جانب سے نعت خواں لڑکیوں،اسلام آباد مرکز کے کارکنان شاہد عمران،امداد حسین اور چوہدری سلیم کو کمپیئر افشاں ملک کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات منظر عام آنے پر ادارے کے تمام مراکز میں کام کرنے والوں کی کڑی نگرانی کی جاری ہے ۔شجاعت اللہ کوجنسی ہراسانی کی پاداش میں معطل کرنے کے ساتھ ساتھ ا ن کے خلاف چارج شیٹ جاری کی گئی اور ان کے پی ٹی وی کراچی مرکز میں داخلہ پر بھی پابندی عائد کردی گئی تھی جبکہ شاہد عمران،امداد حسین اور چوہدری سلیم کا کیس عدالت میں چل رہا ہے اور یہ تینوں ضمانت پر ہیں۔

پی ٹی وی کے چند سنجیدہ لوگوں کا ان واقعات کے حوالے سے کہنا ہے کہ جس ادارے میں نعت خواں بھی محفوظ نہیں تو کسی اور کی حفاظت کی کیا ضمانت ہے۔اگر ایسے گھناﺅنے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جاتی توکوئی بھی دوبارہ ایسا کرنے کی جرات نہ کرتا۔یادرہے کہ بسمہ بلوچ نامی ایک لڑکی نے پی ٹی وی کے پروڈیوسرز کی جانب سے زیادتی کے بعد خود کشی کرلی تھی اور اپنی ڈیٹھ سٹیٹمنٹ میں ان کے نام بھی لئے تھے لیکن ارباب اختیار نے ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔ منیجنگ ڈائریکٹرمبشر توقیر نے گزشتہ دنوں پی ٹی وی اکیڈمی اور اسلام آباد مرکز کے دورہ کے دوران ادارہ میں بڑھتے ہوئے جنسی ہراسانی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا تھااس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ کشمیر سے کراچی تک پروگرام ڈویژن کے سینئر لوگ خواتین کے ساتھ زیادتی اور جنسی ہراسانی کے واقعات میں ملوث پائے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ ماضی میں خالد لکھن(کشمیر مرکز) ،مختارلاشاری ،علی سکندر (کراچی مرکز)اورخالد لطیف(پی ٹی وی ہوم اسلام آباد) سمیت کئی افسران اپنے ذاتی تعلقات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے انکوائری میں صاف بچ نکلے تھے۔ذرائع کے مطابق خالد لکھن کشمیر کے بعد ملتان مرکز میں بھی جنسی ہراسانی کے واقعہ میں ملوث پائے گئے تھے لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی بجائے ان کا تبادلہ کوئٹہ مرکز کردیا گیا ہے جبکہ کمپیئر افشاں ملک کو ہراساں کرنے والے تین میں سے ایک ملزم چوہدری سلیم کو ادارے کی جانب سے سزا دینے کی بجائے ان کو گروپ 6سے ترقی دے کر گروپ 9کے پروڈیوسر کی حیثیت سے ہیڈ آف کرنٹ افیئر لگا دیا گیا ہے۔ دوسری جانب موجودہ انتظامیہ نے پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کے سینئر کارکنان کو خبردار کیا ہے کہ وہ مستقبل میں محتاط رہیں کیونکہ ان کی ذرا سی غلطی نوکری کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی وی لاہور کے دو پروڈیوسرز کے بارے میں بھی خواتین کو ہراساں کرنے کے الزامات کے بعد انکوائری جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.