شوبزفیچرڈ پوسٹ

میں غیر اخلاقی جنسی کردار کیوں نبھاتی ہوں اس معاملہ میں مجھے کس نے متاثر کیا؟ میرا آئیڈیل کون؟ شرمناک سچائی سامنے آنے پر ہر کوئی دنگ رہ گیا

لوگ میری ماں کو ہینڈسم کہہ کر پکارتے تھے۔ مجھے کافی بعد میں سمجھ آئی کہ یہ تو ان کی تذلیل تھی کیوںکہ لوگ سمجھتے تھے کہ ان میں نسوانیت کی کمی ہے

میں غیر اخلاقی جنسی کردار کیوں نبھاتی ہوں اس معاملہ میں مجھے کس نے متاثر کیا؟ میرا آئیڈیل کون؟ شرمناک سچائی سامنے آنے پر ہر کوئی دنگ رہ گیا ۔

انٹرنیشنل میڈیا رپورٹ کے مطابق 10 سال قبل کیٹیا وان لون نے ایک بلاگ پوسٹ لکھی جس میں انھوں نے 14 جولائی کو نان بائنری ڈے منانے کی تجویز دی جو مردوں اور خواتین کے عالمی دنوں کے عین بیچ کی تاریخ بنتی ہے۔ نان بائنری کا لفظ ایسے افراد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو اپنی شناخت بطور مرد یا عورت نہیں کرتے۔ کیٹیا نے کہا کہ اس دن کا خواب، حقیقت بن جانا کتنا اہم ہے۔ ایک میم ہے جس کا مرکزی کردار ایک ایسا پرندہ ہے جس کو ساری زندگی پینگوئن کہہ کر پکارا جاتا ہے۔

ایک دن یہ پرندہ ڈاکٹر سے ملتا ہے جو اسے بتاتا ہے کہ تم پینگوئن نہیں ہو تم تو راج ہنس ہو۔ اس پرندے کو ایک دم سکون مل جاتا ہے اور اچانک اس کو اپنی زندگی کی سمجھ آ جاتی ہے۔ سنہ 2011 میں میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب میری عمر 20 کے لگ بھگ تھی۔ میری دادی کا انتقال ہوا تو ایک دن میں ان کے اپارٹمنٹ میں ان کی چیزیں سنبھال رہی تھی۔ اپنی توجہ کچھ دیر ہٹانے کے لیے میں نے انٹرنیٹ پر یوں ہی ادھر ادھر دیکھنا شروع کیا تو میں ایک ایسے وکی پیڈیا پیج پر جا پہنچی جو جنسی شناخت سے متعلق تھا۔

یہاں میں نے پہلی بار نان بائنری کی اصطلاح پڑھی۔ اس تحریر میں مجھے معلوم ہوا کہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو عام جنسی شناخت نہیں رکھتے، جو خود کو مرد اور عورت کے طور پر نہیں بلکہ اس شناخت سے باہر تصور کرتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ یہ تو میں ہوں۔ میں نان بائنری ہوں اور مجھے آج تک معلوم ہی نہیں تھا کہ اس کیفیت کو کن الفاظ سے پکارا جاتا ہے۔ میں نے رونا شروع کر دیا۔ میں جانتی تھی کہ اب مجھے اپنے بوائے فرینڈ کو بتانا ہو گا۔

ہائی سکول میں ڈرامہ میرا سب سے پسندیدہ موضوع تھا۔ مجھے اس سے جڑی ہر چیز پسند تھی، حتی کہ کلاس کے آخر میں ہیوی لفٹنگ بھی۔ مجھے ڈرامہ روم کی سب سے مضبوط لڑکی کہا جاتا تھا اور سیٹ کی سب سے بھاری بھرکم اشیا کو اٹھانے کی ذمہ داری لڑکوں کے ساتھ مجھے سونپی جاتی تھی۔ تو بس لڑکوں کے ساتھ یہ کام کرتے میری شناخت وہاں موجود لڑکیوں سے کچھ مختلف انسان کے طور پر کر دی گئی لیکن حیران کن طور پر میرے لیے الگ ہونا اس وقت میں شرم سے زیادہ فخر کی بات تھی۔

کسی حد تک میں اپنی والدہ جیسی تھی۔ لوگ میری ماں کو ہینڈسم کہہ کر پکارتے تھے۔ مجھے کافی بعد میں سمجھ آئی کہ یہ تو ان کی تذلیل تھی کیوںکہ لوگ سمجھتے تھے کہ ان میں نسوانیت کی کمی ہے۔ وہ ایک اکیلی خاتون تھیں، جو وکیل بھی تھی اور پڑھائی کے پیشے سے بھی تعلق رکھتی تھیں۔ وہ سکول کی دیگر ماں جیسی نہیں تھیں۔ وہ گھر کے کام کاج اتنے ہی آرام سے کر لیتی تھیں جیسے وہ اپنے طلبا کو پڑھاتی تھیں یا پھر جیسے میرا خیال رکھتی تھیں۔ غیر روایتی جنسی کردار کو اپنانے میں، میں بالکل اپنی والدہ پر گئی لیکن میں کہیں اور ہی زندہ تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ مجھے صرف اپنا آپ لڑکی نما نہیں لگتا تھا یا میں لمبی تھی اور مجھ میں نسوانیت کی کمی تھی۔ معاملہ اس سے بڑا تھا، عورت کا لیبل مجھ پر فٹ نہیں بیٹھتا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.