انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

گھر کے صحن ، بالکنی ، چھتوں سمیت دیگر جگہوں پر چڑیاں اب کیوں نہیں نظر آتیں؟ سائنسدانوں نے تحقیق کر کے ایسی وجہ بتا دی کہ سب کے ہوش اڑ گئے

تحقیق کر کے پتا لگایا ہے کہ ٹریفک کے شور سے پرندوں اور دیگر جانوروں کی مختلف صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں

گھر کے صحن ، بالکنی ، چھتوں سمیت دیگر جگہوں پر چڑیاں اب کیوں نہیں نظر آتیں؟ سائنسدانوں نے تحقیق کر کے ایسی وجہ بتا دی کہ سب کے ہوش اڑ گئے ہیں۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق سائنسدانوں نے گانے والی چڑیا جسے سانگ برڈ بھی کہتے ہیں، پر تحقیق کر کے پتا لگایا ہے کہ ٹریفک کے شور سے پرندوں اور دیگر جانوروں کی مختلف صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ انہیں اس تحقیق کے ذریعے معلوم ہوا کہ گانے والی چڑیا کے آس پاس سے گزرتی کاروں کے شور سے اس پرندے کی خوراک تلاش کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق ٹریفک کے شور سے پرندوں اور دیگر جانوروں پر ایسے اثرات مرتب ہو رہے ہیں جن کے بارے میں ماضی میں تصور نہیں کیا گیا تھا۔ یہ بھی پایا گیا کہ کورونا کی وبا کے دوران لاک ڈان کے سبب شور میں کمی آئی ہے جس کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ امریکہ کی پیسیفِک یونیورسٹی کے پروفیسر کرسٹوفر ٹیمپلٹن نے اس ریسرچ کی راہنمائی کی۔ محققین نے ان پرندوں کو پہلے خاموش ماحول میں پرکھا اور پھر ان کے گرد ٹریفک کے شور کو پیدا کر کے ان کے رویوں میں تبدیلی پر غور کیا۔ پروفیسر ٹیمپلٹن نے بتایا کہ ‘محض کسی ایک کار کے نزدیک سے گزر جانے سے ان کے رویے میں تبدیلی دیکھی گئی۔’ اس تحقیق میں ان پرندوں کو دونوں قسم کے ماحول میں اپنے لیے کھانے کو تلاش کرنا تھا۔ ایک ٹیسٹ میں درخت کی پتے نما ایک ڈھکن کے نیچے سے انہیں کھانا تلاش کرنا تھاجبکہ دوسرے میں انہیں ایک سیلنڈر کے اندر رکھے کھانے کے ٹکڑے کو تلاش کرنا تھا۔

پروفیسر ٹیمپلٹن نے بتایا کہ ‘ٹریفک کے شور کے نہ ہونے پر ان پرندوں نے ان ٹیسٹس کو پاس کرنے کی دگنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے کہا ‘مجھے لگتا ہے کہ یہ نتائج دیگر نسلوں اور مختلف اقسام کے پرندوں پر بھی لاگو ہوں گے۔’ انھوں نے اس تحقیق میں پرندے کی ‘زیبرا فِنچز’ نامی نسل کو شامل کیا تھا۔ یہ پرندے بمشکل ہی خاموش رہتے ہیں۔ پروفیسر تیمپلٹن نے کہا ‘آپ تصور کر سکتے ہیں کہ مسلسل شور کرتے ہوئے پرندوں کے ساتھ کام کرنا کیسا ہوگا، بہت شور و غل کا ماحول ہوتا ہے’۔

متعلقہ خبریں

Back to top button