پاکستانفیچرڈ پوسٹ

علاج کی غرض سے لیبارٹری میں ٹیسٹ کروانے آنے والی خاتون کو ایکسرے کے لئے بے لباس کر کے ویڈیو بنانے کے الزام میں اسپتال میں ہنگامہ، ملزم گرفتار

متاثرہ خاتون کو ایکسرے کے لیے لایا گیا تو مبینہ طور پر ٹیکنیشن نے انھیں قمیض اتارنے کا کہا اور پھر ان کی ویڈیو بھی بنا لی

علاج کی غرض سے لیبارٹری میں ٹیسٹ کروانے آنے والی خاتون کو ایکسرے کے لئے بے لباس کر کے ویڈیو بنانے کے الزام میں اسپتال میں ہنگامہ، ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق متاثرہ خاتون کو ایکسرے کے لیے لایا گیا تو مبینہ طور پر ٹیکنیشن نے انھیں قمیض اتارنے کا کہا اور پھر ان کی ویڈیو بھی بنا لی۔ خاتون نے بھائی کو بتایا تو معاملہ پولیس تھانے تک پہنچ گیا جس پر مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ بھکر کے ایک نجی ہسپتال میں ڈیجیٹل ایکسرے کی سہولت کی وجہ سے اکثر لوگ یہاں سے ایکسرے کرانے آتے ہیں۔ بھکر کے پولیس تھانے میں درج رپورٹ میں ایک مقامی شخص نے بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنی بہن کو ایکسرے کے لیے ہسپتال میں گیا اور وہاں ٹیکنیشن سے کہا کہ یہاں ایکسرے مشین کے لیے کوئی خاتون موجود ہے تو انھیں جواب دیا گیا کہ ایکسرے کے لیے کوئی خاتون نرس نہیں ہے صرف وہی ایک ہی ٹیکنیشن موجود ہے۔

پولیس تھانہ سٹی میں درج اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خاتون جب ایکسرے کے لیے اندر گئی تو ٹیکنیشن نے انھیں قمیض اتارنے کا کہا کہ کپڑوں کے ساتھ ایکسرے صحیح نہیں آتا۔ خاتون جب باہر آئی تو بھائی کو بتایا کہ ان سے قمیض اتارنے کا کہا گیا اور یہ کہ موبائل فون سے ان کی ویڈیو بھی بنائی گئی ہے۔ اس پر خاتون کے بھائی نے ہنگامہ شروع کر دیا اور پولیس کو اطلاع کردی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر ٹیکنیشن کو گرفتار کر لیا اور ان کے قبضے سے گیارہ مزید یو ایس بیز یعنی ڈیٹا سٹوریج ڈیوائس برآمد کی ہیں۔

اس بارے میں بھکر کے ضلع پولیس افسرطاہر رحمان نے بتایا کہ اس بارے میں مزید تحقیقات جاری ہیں اور اگر ہسپتال کے ڈاکٹر اور انتظامیہ بھی اس میں ملوث پائی گئی تو انھیں بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔ ان سے جب پوچھا کے ابتدائی تفتیش میں ملزم نے کیا بتایا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی ان سے معلومات حاصل کی جا رہی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ ٹیکنیشن اپنے لیے یہ ویڈیوز بناتا تھا کیونکہ اس شخص کے بارے میں بلیک میلنگ یا کسی کو دھمکانے وغیرہ کی کوئی شکایت ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔ صوبہ پنجاب کا دورافتادہ ضلع بھکر دریائے سندھ کے قریب واقع ہے اور خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے کوئی 32 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ چند روز پہلے صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ میں آپریشن تھیٹر میں ایک مریضہ کے مبینہ ریپ کے خلاف اہل خانہ اور علاقے کے لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے، پولیس نے متعلقہ نجی ہسپتال کو ان کے مطالبہ پر بند کر دیا ہے۔

خاتون کے شوہر پولیس کو بتایا کہ اس بیوی آپریشن کے لیے گئی تھی جہاں اس کے جسم کے نچلے دھڑ کو نشہ دے کر ان کا ریپ کیا گیا ہے۔ پولیس اس بارے میں تفتیش کر رہی ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں اس سے پہلے بھی لڑکوں اور لڑکیوں سے ریپ کرکے یا ان کی عریاں ویڈیوز بنا کر انھیں بلیک میل کرنے کے واقعات ذرائع ابلاغ میں سامنے آتے رہے ہیں جس پر کارروائیاں بھی کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ سرگودھا اور قصور میں ایسے گروہوں کے انکشاف بھی ہوئے ہیں جو اس طرح کی ویڈیوز کا کاروبار بیرون ملک کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button