سوشل ایشوزفیچرڈ پوسٹ

شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی ڈیوٹی سنبھالنے والے پولیس ملازمین بھی عدم تحفظ کا شکار کیوں ہونے لگے؟ تہلکہ خیز حقیقت نے چونکا کر رکھ دیا

سب انسپکٹر کے اغوا کا واقعہ تھانہ مناواں کی حدود میں پیش آیا۔ 2گاڑیوں میں اغوا کار سب انسپکٹر کو اغوا کر کے لے گئے ہیں

شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی ڈیوٹی سنبھالنے والے پولیس ملازمین بھی عدم تحفظ کا شکار کیوں ہونے لگے؟ تہلکہ خیز حقیقت نے چونکا کر رکھ دیا

تفصیلات کے مطابق لاہورمیں انویسٹی گیشن پولیس کے سب انسپکٹر کو رات گئے گھر سے مبینہ طور پر اغوا کرلیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سب انسپکٹر کے اغوا کا واقعہ تھانہ مناواں کی حدود میں پیش آیا۔ 2گاڑیوں میں اغوا کار سب انسپکٹر کو اغوا کر کے لے گئے۔ پولیس حکام نے کہا کہ سب انسپکٹر تھانہ ہربنس پورہ میں انویسٹی گیشن ونگ میں تعینات تھے۔ سی سی پی او لاہور نے مغوی کی بازیابی کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دیں۔ ترجمان لاہور پولیس نے کہا کہ مغوی کی بازیابی کے لیے کیمروں کی مدد لی جا رہی ہے۔ اغوا کی وجوہات کے لیے اہل خانہ سے بھی پوچھ گچھ جاری ہے۔

قبل ازیں راجن پور میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کے دوران بھی دو پولیس اہلکار اغوا ہو گئے تھے۔ کچے میں سے دو پولیس اہلکاروں کانسٹیبل عرفان منظور اور محمد ارشد کو اغوا کیا گیا تھا جنہیں پولیس کی جانب سے کامیاب آپریشن کے بعد بازیاب کروایا گیا تھا۔ آپریشن میں ایک ہزار اہلکاروں میں اے پی سی بکتر بند سمیت جدید اسلحہ کا استعمال کیا گیا۔ اس واقعہ کے ذمہ داروں کے تعین کے لیے محکمانہ انکوائری کی گئی۔ متعلقہ انکوائری میں 2 اہلکار اور چوکی انچارج قصور وار ثابت ہوئے جنہیں ”ڈسمس فرام سروس” کر دیا گیا تھا۔ نوکرری سے فارغ ہونے والوں میں اے ایس آئی عبدالرحمان، کانسٹیبلز عرفان منظور اور محمد ارشد شامل ہیں۔ اس حوالے سے ڈی پی او فیصل گلزار نے کہا کہ اہلکار غفلت اور غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے مقامی زمیندار کی دعوت کھانے چلے گئے تھے اور اغوا ہو گئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.