سوشل ایشوزفیچرڈ پوسٹ

ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ اس لڑکی کے ہاتھ اور پاؤں نہیں ہیں اس لئے اسے پیٹ میں ہی ختم …………؟ معذور لڑکی کی داستان عبرت

کرن اشتیاق آج انگلش میں بی ایس آنرز کر رہی ہیں،تمام تر تعلیم دوسرے بچوں کیساتھ روایتی سکولوں میں یا پھر گھر پر پڑھائی کر کے حاصل کی ہے

ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ اس لڑکی کے ہاتھ اور پاؤں نہیں ہیں اس لئے اسے پیٹ میں ہی ختم …………؟ معذور لڑکی کی داستان عبرت سامنے آگئی۔

تفصیلات کے مطابق جب وہ پیدا ہوئیں تو کسی کو یقین نہیں تھا کہ وہ زیادہ عرصہ زندہ رہ پائیں گی۔ ڈاکٹروں نے تو ان کے والدین کو بتا دیا تھا کہ اس بچی کے بازو ہیں نہ ٹانگیں ہیں، یہ نہیں جی پائے گی۔ لیکن ان کے گھر والوں نے انھیں دل سے اپنانے کا فیصلہ کیا۔ ان کا نام کرن یعنی روشنی رکھا گیا۔ ابتدائی دنوں میں وہ کسی بھی دوسرے بچے کی طرح اپنی والدہ کے سہارے پر تھیں۔ لیکن جب وہ چھ ماہ کی ہوئیں تو ان کی والدہ انھیں چھوڑ کر چلی گئیں کیونکہ والدین میں علیحدگی ہو گئی تھی۔ ان دنوں آس پڑوس کے لوگ ان کے گھر صرف انھیں دیکھنے آتے تھے کہ ٹانگوں اور بازوں کے بغیر یہ کیسی بچی پیدا ہوئی ہے۔ وہ ان کے والد اور گھر والوں سے سوال بھی کرتے کہ یہ بچی کیسے جی پائے گی۔

صوبہ پنجاب کے شہر رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والی وہی کرن اشتیاق آج انگلش میں بی ایس آنرز کر رہی ہیں۔ انھوں نے تمام تر تعلیم دوسرے بچوں کے ساتھ روایتی سکولوں میں یا پھر گھر پر پڑھائی کر کے حاصل کی ہے اور میٹرک میں فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوئی تھیں۔ آج بھی میں جب امتحان دینے کے مرکز پر جاتی ہوں تو لوگ مجھے ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ یہ یہاں کیا کرنے آئی ہے۔ میں انھیں بتاتی ہوں کہ میں بھی دوسروں کی طرح لکھ کر پرچہ حل کرنے آئی ہوں۔ کرن کے بازو صرف کہنیوں تک ہیں۔ ان کی لکھائی دیکھنے والا کوئی شخص یہ نہیں بتا سکتا کہ یہ منھ میں قلم دبا کر لکھتی ہیں۔ ان کے پاس بھی پرچہ مکمل کرنے کے لیے اتنا ہی وقت ہوتا ہے جتنا دوسرے طالب علموں کے پاس اور وہ اسی مقررہ وقت میں اپنا کام مکمل کرتی ہیں۔ اپنے چھوٹے سے گھر میں آٹو میٹک ویل چیئر پر بیٹھے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کرن اشتیاق نے انتہائی پراعتماد لہجے میں بتایا کہ انھیں اچھا نہیں لگتا کہ کوئی ان پر ترس کھائے یا ایسی نظروں سے دیکھے کہ انھیں بے بسی کا احساس ہو۔

کسی کے سہارے پر زندگی نہ گزارنے کا یہی احساس تھا جو انھیں تعلیم کی طرف لے آیا تھا۔ ابتدا ہی سے انھیں جنون کی حد تک تعلیم کا شوق ہو گیا تھا۔ چھ ماہ کی عمر میں وہ والدہ کے سہارے سے محروم ہوئیں تو ان کی دو پھوپھیوں کو اپنی تعلیم ترک کرنا پڑی تا کہ وہ کرن کو سنبھال سکیں۔ بن ماں کی بچی کو پالنا آسان نہیں تھا۔ مجھے نہیں معلوم میری والدہ مجھے چھوڑ کر کیوں چلی گئیں۔ اب اتنے سالوں بعد جب وہ سعودی عرب سے واپس آئی ہیں تو میں ان سے ملی ہوں۔ میں نے پہلی بار انھیں اپنے سامنے دیکھا ہے۔ ان کے والدین میں علیحدگی کے بعد ان کی والدہ دوسری شادی کر کے سعودی عرب چلی گئیں تھیں۔ حال ہی میں وہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد پاکستان واپس آئی ہیں۔ کرن اب کبھی کبھار انھیں ملنے جاتی ہیں لیکن اب بھی کرن نے ان سے یہ سوال نہیں پوچھا کہ وہ انھیں کیوں چھوڑ گئی تھیں۔ میں نے سوچا کہ یہ ان کا فیصلہ تھا تو ٹھیک ہے ان کی مرضی۔ مجھے میرے والد اور باقی گھر والوں نے اتنا پیار دیا ہے کہ مجھے کبھی والدہ کی کمی ہی محسوس نہیں ہوئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.