انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

پب جی گیم کی ایک اور دردناک کہانی بے نقاب، اپنی ماں کو قتل کرنے والے بدبخت بیٹے نے پولیس کو کیا وجہ بتائی؟ رونگٹے کھڑے کر دینے والی کہانی سامنے آگئی

17 سالہ بیٹے نے چار جون کی رات تقریبا 2-3 بجے والد کے لائسنس یافتہ پستول سے ماں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

پب جی گیم کی ایک اور دردناک کہانی بے نقاب، اپنی ماں کو قتل کرنے والے بدبخت بیٹے نے پولیس کو کیا وجہ بتائی؟ رونگٹے کھڑے کر دینے والی کہانی سامنے آگئی۔

تفصیلات کے مطابق مغربی بنگال کے آسنسول میں فوج میں جونیئر کمیشنڈ افسر کے طور پر تعینات نوین کمار سنگھ صرف ایک ماہ قبل دو مئی کو چھٹی گزار کر ڈیوٹی پر واپس آئے تھے۔ انھیں اندازہ نہیں تھا کہ انھیں اپنی بیوی کی موت کی خبر ملے گی اور انھیں اتنی جلدی گھر واپس جانا پڑے گا۔ ان کی اہلیہ لکھن کے علاقے پنچم کھیڈا میں جمنا پورم کالونی میں اپنے بیٹے اور بیٹی کے ساتھ رہتی تھیں۔ ان کے17 سالہ بیٹے نے چار جون کی رات تقریبا 2-3 بجے والد کے لائسنس یافتہ پستول سے ماں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ بیٹے نے خود اس واقعے کے بارے میں سات جون کو اپنے والد کو فون کیا تھا۔ واقعے کے بعد تین دن تک ملزم اپنی 10 سالہ بہن کے ساتھ اسی گھر میں رہا۔ جب لاش کی بو گھر سے باہر تک آنے لگی تو اس نے اپنے والد کو مطلع کیا۔ اے ڈی سی پی ایسٹ قاسم عابدی نے بی بی سی کو فون پر بتاتا ہے کہ بچے کو کم سن مجرموں کے اصلاحی مرکز بھیج دیا گیا ہے۔ اس وقت قانونی چارہ جوئی جاری ہے۔

پولیس کے مطابق لڑکے کے والد کا کہنا ہے کہ اسے ویڈیو گیمز کھیلنے اور لڑکیوں کے ساتھ گپ شپ کرنے کی بہت عادت تھی۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی بیوی نے اسے یہ سب کرنے سے منع کیا۔ اسے موبائل فون کے استعمال پر پابندی پسند نہیں آئی۔ اس کے ساتھ ہی بچے نے پولیس کو بتایا کہ مجھے ہر چیز کے لیے بلیک میل کیا جاتا تھا، چاہے وہ میری غلطی ہو یا نہ ہو اگر میں کھیلنے بھی جاتا تو میری ماں شک کیا کیا کرتی تھی۔ قاسم عابدی کا کہنا ہے کہ بچہ اس سے پہلے بھی کئی بار گھر سے بھاگ چکا تھا۔ اس کی فطرت باقی بچوں سے کچھ مختلف ہے۔ اس واقعے کے بعد سے بچے کا رویہ بالکل نارمل ہے، اسے لگتا ہے کہ اس نے جو کچھ کیا ہے وہ بالکل درست ہے۔ میرے سامنے اب تک یہ پہلا ایسا معاملہ ہے لیکن کووڈ کے دوران ہمارے سامنے موبائل کی لت کے بہت سے واقعات سامنے آئے تھے۔

کے جی ایم یو کے سابق ماہر نفسیات ڈاکٹر کرشنا دت نے بتایا کہ کچھ بچوں کی فطرت ہوتی ہے کہ ان کا اپنے جذبات پر کنٹرول نہیں ہوتا، ایسے بچے بہت زیادہ سوچ سمجھ کر کوئی قدم نہیں اٹھاتے بلکہ غصے میں آکر ایسا کرتے ہیں۔ بعض اوقات وہ چھوٹے بہن بھائیوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آج کل اس طرح کے واقعات کی بنیادی وجہ واحد خاندانی نظام ہے۔ پہلے مشترکہ خاندان میں بچے سب سے زیادہ باتیں کرتے تھے اور خاندان کے افراد کے ساتھ مختلف سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے لیکن اب ان کی دنیا موبائل اور ٹی وی بن چکی ہے۔ ایک ہی خاندان میں اگر دونوں والدین کام کرتے ہیں، تو بچے بہت تنہا ہوتے ہیں۔ ایسے بچوں کو اظہار کا موقع نہیں ملتا۔ اس صورت حال میں بچہ موبائل کا عادی ہو جاتا ہے۔ ایسے بچوں کے نتائج آپ کے سامنے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.