صحت

ماہرین نے الزائمر میں مبتلا مریضوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی

وٹامن بی 12 کی کمی، بلند فشار خون، شوگر، نیند کی کمی اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی کمی کی وجہ سے یہ بیماری لاحق ہوسکتی ہے

دماغی و ذہنی امراض کے ماہرین نے الزائمر میں مبتلا مریضوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ ایک لا علاج بیماری ہے اس کو کوئی علاج نہیں۔

ماہرین نے کہا ہے کہ حافظے کی کمزوری (الزائمر) میں انسان کے معمولاتِ زندگی، مزاج اور رویّے میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں آنے لگتی ہیں جن پر توجہ نہ دینے سے یہ مرض الزائمر میں تبدیل ہوجاتا ہے جو ایک لاعلاج بیماری ہے۔ الزائمر کے لاحق ہونے کا کوئی معروف سبب اب تک دریافت نہیں ہوسکا۔ وٹامن بی 12 کی کمی، بلند فشار خون، شوگر، نیند کی کمی اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی کمی کی وجہ سے یہ بیماری لاحق ہوسکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیورولوجی اویئرنیس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے زیراہتمام زیر تربیت ماہرین اعصاب و دماغ کیلیے پاکستان میں حافظے کی کمزوری (الزائمر) کے متعلق تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ تربیتی ورکشاپ سے پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع، پروفیسر اقبال آفریدی، پروفیسر حیدر علی نقوی، ڈاکٹر صفیہ اعوان سمیت دیگر ماہرین دماغ و اعصاب نے شہر بھر کے زیر تربیت ماہرین دماغ و اعصاب کو حافظے کی کمزوری (الزائمر) کے حوالے سے جدید تحقیقات اور علاج کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر ماہرین دماغ و اعصاب پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع، پروفیسر اقبال آفریدی، پروفیسر حیدر علی نقوی، ڈاکٹر صفیہ اعوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حافظے کی کمزوری (الزائمر) کو بڑھاپے کی علامت سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ ایک دماغی اور زندگی کو کم کرنے والا مرض ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق ملک میں تقریباً 10 لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں لیکن لوگوں کی اکثریت اس بیماری سے لاعلم ہے۔

الزائمر کی ابتدائی علامات میں یادداشت کی کمی و روز مرہ سرگرمیوں کا بھول جانا شامل ہے۔ جب مرض بڑھتا ہے تو مریض کھانا کھانا، کپڑے پہننا اور گھر کے پتے سمیت اپنے بچوں اور قریبی عزیزواقارب تک کو بھولنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس کی کیفیت چھوٹے بچے کی سی ہو جاتی ہے جسے کسی بات کا علم نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں مریضوں کا بہت زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق الزائمر کی ابتدائی شکل ڈیمنشیا (نسیان) دنیا بھر میں ایک بڑھتا ہوا مرض ہے جس کے مریضوں کی تعداد تقریباً پانچ کروڑ ہے لیکن ماہرین کے مطابق 2050 تک اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد تین گنا تک بڑھ سکتی ہے۔

ماہرین نے کہا کہ حافظے کی کمزوری (الزائمر) کی تاحال کوئی وجہ معلوم نہیں کی جاسکی۔ عموماً 60 سال کی عمر کے بعد دماغ کے خلیے ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں جس سے دماغ کے وہ حصے متاثر ہوتے ہیں جن کا تعلق حافظے، سوجھ بوجھ اور شخصیت سازی سے ہوتا ہے نتیجتاً انسان حساب کتاب اور سوچ بچار تک نہیں کرسکتا اور چیزوں کو بھولنا شروع ہوجاتا ہے۔ ماہرین دماغ و ذہنی امراض کے مطابق الزائمر کے لاحق ہونے کا کوئی معروف سبب ابھی تک دریافت نہیں ہوسکا لیکن وٹامن بی 12 کی کمی، بلند فشار خون، شوگر، نیند کی کمی اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی کمی کی وجہ سے یہ بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.