صحت

سنگھاڑے کا استعمال تھکاوٹ دورکرنے میں مفید

سنگھاڑا کے نام سے مشہور یہ پھل ایک بیل سے حاصل ہوتا ہے جو پانی میں‌ پھلتی پھولتی ہے

سنگھاڑے کا استعمال تھکاوٹ دورکرنے مفید، سنگھاڑے کا چھلکا ہرا ہوتا ہے لیکن سوکھ جانے کے بعد اس کی رنگت سیاہ پڑجاتی ہے۔ یہ پھل چھوٹا اورمخروطی یا تکونی شکل کا ہوتا ہے۔ اس کا گودا سفید اورشیریں ہوتا ہے۔ اس پھل کو پک جانے پرابال کرکھایا جاتا ہے۔ یہ نرم پھل ہے جوابالنے کے بعد سخت ہوجاتا ہے۔ کچا سنگھاڑا ہلکا میٹھا اورخستہ ہوتا ہے۔ تاہم اسے اچھی طرح دھونا چاہیے کیوں کہ اس پھل میں پانی سے کچھ مضر اجزا اورکیمیائی مادے بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے سنگھاڑے کوابال کراستعمال کرنا بہترہے۔ اُبلا ہوا سنگھاڑا زیادہ ذائقے دارہوتا ہے۔

یوں توبرصغیراورخطے کے دیگرعلاقوں‌ میں‌ اس پھل کومتعدد ناموں‌ سے شناخت کیا جاتا ہے، لیکن ہمارے ہاں یہ اپنی شکل یا بناوٹ کی وجہ سے سنگھاڑا مشہورہے۔ یہی لفظ کسی کواُس کی شکل کی وجہ سے چڑانے کے لیے بھی بولا جاتا ہے اوراس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ بھونڈا اورسڑیل ہے۔ سردیوں میں یہ پھل بازارمیں بکثرت نظر آتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق سنگھاڑے میں کاربوہائیڈریٹس بہت زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس میں پروٹین، وٹامن بی، پوٹاشیم اورکاپرکی مقداربھی شامل ہوتی ہے۔

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ سنگھاڑے کا استعمال تھکاوٹ دورکرنے کے ساتھ ساتھ جسم میں خون کی روانی بہتربناتا ہے۔ سنگھاڑے کے گودے کا سفوف کھانسی کو رفع کرتا ہے جب کہ اسے دودھ میں‌ ملانے سے اس پر بالائی آجاتی ہے. سنگھاڑے کو پانی میں ابال کر پینے سے قبض کی شکایت رفع ہوتی ہے۔

Tags
Back to top button
Close