صحت

وہ 6 غذائیں جو انسانی صحت کےلئےبےحد ضروری ہیں

غذائی ماہرین کی جانب سےبہتر،مثبت اورمکمل غذا کا استعمال لازمی قراردیا جاتا ہے

غذائی ماہرین کی جانب سےبہتر،مثبت اورمکمل غذا کا استعمال لازمی قراردیا جاتا ہے،ڈائیٹنگ یا چند غذاؤں کوناپسندیدہ قراردے کرچھوڑ دینےسےانسانی جسم غذائیت کےلحاظ سےمختلف غزائی اجزا کی کمی’ڈیفیشنسیز‘ کا شکارہوجاتا ہےجس سےمجموعی صحت پرمنفی اثرات مرتب ہوتےہیں۔ ماہرین غذائیت کےمطابق اعتدال میں رہتےہوئےہرقسم کی غذا کا استعمال لازمی کرنا چاہیے، صحت مند اوربھرپورزندگی جینےکےلیےگوشت،سمندی غذاؤں،سبزیوں، پھلوں اورڈیری مصنوعات کا استعمال اپنی غذا میں  شامل رکھنا چاہیے۔ غذائیت سےمتعلق وٹامنز اورمنرلزکی کمی کا سامنا کسی بھی جنس کوکسی بھی عمرمیں کرنا پڑسکتا ہے،اسی لیےہرعمرمیں غذا کا خاص خیال رکھنا اوروٹامنزاور منرلزکی کمی کےباعث سامنےآنےوالی علامات پرنظررکھنا ضروری ہے۔ وٹامنزاورمنرلزکی عام پائی جانےوالی کمی ’نیوٹرینٹ ڈیفیشنسیز‘ (nutrient deficiencies) میں پروٹین،وٹامن اے ،بی،سی ،ڈی،کیلشیم،فولیٹ،آئیوڈین،اورآئرن شامل ہیں۔

انسانی جسم میں پروٹین کی کمی

پروٹین کی کمی،بڑوں،بچوں اوربزرگوں میں پائی جا سکتی ہے،جسم میں پروٹین کی کمی کی وجہ ڈپریشن،زیادہ دیرتک بھوکا رہنا اوربھوک کومارنےکےسبب پیدا ہوتی ہے۔ بچوں میں پروٹین کی کمی کا پایا جانا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، ماہرین غذائیت کےمطابق بچوں کی غذا پر خصوصی توجہ دینی چاہیےجبکہ ہرعمرکےفرد کوغذا میں پروٹین کا وافرمقدارمیں استعمال شامل رکھنا چاہیے ۔

آئرن

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزشن کےمطابق  وٹامنزاورمنرلزکی کمی میں سب سےزیادہ خطرناک آئرن کی کمی ہے،آئرن کی کمی کا مسئلہ عام پایا جاتا ہے،ہردوسرا فرد اس سےمتاثرنظرآتاہے،کم ہیموگلوبن کی وجہ سےوجود میں آنےوالی یہ کمی زیادہ تربچوں اورخواتین کومتاثرکرتی ہے۔ آئرن کی کمی حاملہ خواتین کےلیےموت کا سبب بھی بن سکتی ہےاوراس کی کمی سےنوزائیدہ بچےکا وزن کم اورپیدائش کےفوراً بعد متعدد بیماریوں میں گھرسکتا ہے۔ ہیموگلوبن کی مقدار پوری کرنےکےلیےلال لوبیا،کدو،پھلیاں ،سورج مکھی کےبیج ،کدوکےبیج ،کالی کھجوروں کا استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

وٹامن اے

وٹامن اے کوچربی گھلانےوالا جزقراردیا جاتا ہے،اس کےعلاوہ وٹامن اے آنکھوں کی بینائی تیزاورقوت مدافعت کومضبوط بنانےمیں بھی کردارادا کرتا ہے، اس کی کمی کےباعث بینائی کمزوراورمدافعتی نظام کمزورہوسکتا ہے۔ وٹامن اے کی زیادتی بھی باعث نقصان ثابت ہو سکتی ہےجسے’وٹامن اے ٹاکسٹی‘ کہا جاتا ہے۔ وٹامن اے کی بھرپورمقدارحاصل کرنےکےلیےگاجر،پالک، بروکولی ،لال اورپیلی شملہ مرچ، کدو،انگور،چکوترے اورشکرکندی کا استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

وٹامن ڈی کی کمی

وٹامن ڈی کی کمی سےبہت سی بیماریاں جنم لیتی ہیں جن میں  زخموں کا دیرسے بھرنا،ہڈیوں کا کمزورہوجانا،بالوں کا گرنا اورسانس لینے میں دشواری شامل ہے،وٹامن ڈی 3 کیلشیم کوجذب کرنےمیں مدد فراہم کرتا ہے۔ طبی ماہرین کےمطابق وٹامن ڈی کی کمی کی وجوہات میں دھوپ نہ سیکنےسمیت غیرمناسب غذا کا استعمال بھی شامل ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ جوافراد دن کےاوقات میں گھروں اوردفتروں میں مصروف اوردھوپ سےدوررہتےہیں ان میں وٹامن ڈی کی کمی پائی جانا عام سی بات ہے۔ وٹامن ڈی کی مقدارحا صل کرنےکےلیےدھوپ سیکنا،مچھلی،مچھلی کا تیل ( سپلیمنٹس )،پنیرکا استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

آئیو ڈین کی کمی

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ آئیوڈین انسانی خوراک کا ایک اہم جز ہے جس کی کمی سے انسانی دماغ اور جسم کی نشو نما متاثر ہوتی ہے، آیو ِڈین انسانی خوراک کا ایک اہم معدنی جز و ہے جو بہت ہی کم مقدار میں یومیہ بنیادوں پر انسانی جسم کو درکار ہوتا ہے، یہ نا تو قد رتی طور پر جسم میں بنتا ہے اور نا ہی ذخیرہ ہوتا ہے۔ آئیوڈین کو نمک کے ساتھ ملا کر انسانی جسم کو فراہم کیا جاتا ہے، ماہرین طب کے مطابق جسم میں آئیوڈین کی کمی کے باعث انسانی دماغ اور جسم کی نشو نما متاثر ہوتی ہے۔ آئیوڈین کی کمی پوری کرنے کے لیے مچھلی، انڈوں اور سمندری دیگر غذاؤں کا استعمال کرنا چاہیے۔

وٹامن بی 12 کی کمی

وٹامن بی 12 دماغی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے ، اس کی کمی کے سبب خون کی کمی اور نظام ہاضمہ، معدے اور آنتوں سے متعلق شکایات سامنے آتی ہیں۔ وٹامن بی 12 کی کمی سے دیگر بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔ وٹامن بی کی کمی پوری کرنے کے لیے انڈے کی زردی، جھینگے، دودھ سے بنی مصنوعات کا استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

Back to top button