صحت

کیلے کھانےسے ہائی بلڈ پریشرسےبچا جاسکتا ہے؟

روزانہ ایک ہفتہ تک دوکیلےکھانےوالوں کےبلڈپریشرمیں دس فیصد کمی دیکھنےمیں آئی

ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ روزانہ دوکیلے کھانے سے ہائی بلڈ پریشرسے بچا جاسکتا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی کستوریا میڈیا کالج میں کی گئی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ 5 کیلے کھانے سے بلڈ پریشر میں اُسی طرح نصف حد تک کمی ہو سکتی ہے جس طرح بلڈ پریشر ادویات کھانے سے ہوتی ہے۔ میڈیکل کالج کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق میں کچھ لوگوں کو شامل کیا گیا جن میں سے کچھ کو ایک ہفتے تک روزانہ دو کیلے کھلائے گئے جبکہ دیگر افراد نے ایسا نہیں کیا ، ایک ہفتے بعد یہ دیکھا گیا کہ روزانہ ایک ہفتہ تک دو کیلے کھانے والوں کے بلڈ پریشر میں دس فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

لہذا تحقیق کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض اگر روزنہ ایک یا دو کیلے کھائیں تو اس سے یہ مرض قابو میں رہتا ہے کیونکہ کیلا غذائی اجزاء اور پوٹاشیم سے بھرپور ہوتا ہے جو ہمارے جسم میں 10 فیصد سے زائد سوڈیم (نمکیات) کے اثر کو کم کرسکتا ہے اور گردوں کی حفاظت میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کاکہنا ہے کہ تحقیق سے پہلے ہی یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ پوٹاشیم بلڈ پریشر میں کمی کا باعث بنتا ہے اور کیلے میں پوٹاشیم کثیر مقدار میں پایا جاتاہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیق کرنے والی ٹیم نے بتایا کہ کیلے کی تمام 6 اقسام میں اے سی ای کے خلاف مزاحمت کرنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

اس کےعلاوہ روزانہ کالی مرچ،پیاز،شہد،میتھی دانے،لہسن اورلیموں کےاستعمال سےبھی بہت جلد بلڈ پریشرمیں کمی لائی جاسکتی ہے۔ یہ تمام وہ چیزیں ہیں جوہروقت ہرکچن میں موجود ہوتی ہیں،اسی لیےماہرین کا کہنا ہےکہ ان چیزوں کواستعمال میں لاتےہوئےہائی بلڈپریشرکو کنٹرول میں لایا جائے۔ جوافراد مسلسل ادویات کا استعمال کرتےہیںاُن میں دیگرخطرناک امراض ہوجانےکا بھی خطرہ ہوتا ہے۔

Back to top button