صحت

انسانی صحت کوشہدسےنقصانات بھی لاحق ہوسکتےہیں

شہد چونکہ میٹھا ہوتا تواس لیےاُس کی بہت زیادہ مقدارہماری صحت کونقصان پہنچا سکتی ہے

شہد کوچینی کا صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہےلیکن جیسا کہ ہم سب جانتےہیں شہد چونکہ میٹھا ہوتا تواس لیےاُس کی بہت زیادہ مقدارہماری صحت کونقصان پہنچا سکتی ہے۔ شہد بنیادی طورپرپانی،فروٹکوزاورگلوکوزسےبنا ہوتا ہے۔ شہد میں انزائمز، وٹامن بی،امینوایسڈ،معدنیات، اینٹی آکسیڈینٹ اوروٹامن سی بھی موجود ہوتا ہےجس میں سوزش کی خصوصیات ہوتی ہےاوراس سےکئی صحت کےفوائد مل سکتےہیں۔ شہد زخموں کی جلد صحت یابی کوفروغ دے سکتا ہے اورکھانسی اورگلےکی سوزش میں آسانی پیدا کرنےمیں بھی مددگارثابت ہوتا ہے۔ یہاں ماہرین شہد کےفوائد کےساتھ ہی اس کےمنفی اثرات کےبارے میں بتارہےہیں۔

شہد کے صحت پر منفی اثرات:

شہد کے صحت پر پانچ منفی اثرات

بلڈ شوگر کو بڑھاوا دیتا ہے: 

شہد صحت مند شوگر کا متبادل ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ شوگر سے خالی ہے۔ یہ قدرتی میٹھا بھی ہے اور کاربس پر مشتمل ہے۔ یہ آپ کے بلڈ شوگر کو بڑھا سکتا ہے۔ ذیابیطس کے شکار افراد کو اپنی غذا میں شامل کرنے سے پہلے احتیاط کے ساتھ اس کا استعمال کرنا چاہیے اور اپنے ماہر سے رجوع کرنا چاہیے۔

وزن میں اضافہ:

شہد میں موجود مٹھاس آپ کے وزن کو بڑھا سکتی ہے۔ شہد کا زیادہ استعمال آپ کے روزانہ کیلیوری کی مقدار میں بھی اضافہ کرسکتا ہے۔

بلڈ پریشر:

شہد میں موجود اینٹی آکسیڈینٹ بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں لیکن اس کا بہت زیادہ استعمال ہائپوٹینشن کے خطرہ کو بڑھا سکتا ہے۔

دانتوں کی صحت کے لیے مضر:

شہد کے زیادہ استعمال کا مطلب چینی کا زیادہ استعمال ہوتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ ہمارے منہ کیصحت کے لیے اچھا نہیں ہے۔ شہد چپچپا ہوتا ہے۔ اگر یہ آپ اس کا زیادہ استعمال کرتے ہو تو یہ آپ کے دانتوں سے چمٹ جائے گا اور دانتوں کی خرابی کا باعث بن سکتا ہے۔

پیٹ میں درد:

جن لوگوں کو شہد سے الرجی ہوتی ہے ان میں زیادہ امکان ہوتا ہے۔ شہد کے استعمال سے اُن کے پیٹ میں درد ہوسکتا ہے۔

ایک دن میں آپ کو کتنا شہد کھانا چاہیے؟

  •  آپ کی غذا میں شوگر اور شہد جیسے میٹھے کھانے کی مقدار کم ہونی چاہیے، خاص طور پر اگر آپ اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں۔
  • ہر روز ایک یا دو عدد چائے کے چمچ شہد سے زیادہ نہ کھائیں۔

متعلقہ خبریں