صحت

رائی دانےکھانےسےکئی فوائد حاصل ہوسکتےہیں

دمے کے حملوں اور جوڑوں کے گٹھیا کے درد کی شدت کو کم کر دیتا ہے

رائی دانے صحت کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں، ان میں گلوکوسینولیٹ پایا جاتا ہے جو رائی کو امتیازی ذائقہ دیتا ہے۔کئی طبّی تحقیقات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ رائی دانہ میں موجود مرکبات انسانی جسم بالخصوص بڑی آنت میں سرطانی خلیوں کو روک سکتے ہیں۔ رائی دانے فیٹی ایسڈز ’اومیگا-3، سیلینیوم، مینگنیز، میگنیشیم، وٹامن B1، کیلشیم، پروٹین، زِنک اور ریشے سے بھرپور ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ رائی دانے کم حرارے رکھتے ہیں، ایک چمچہ رائی دانہ صرف 32 حراروں اور 1.8 گرام کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق رائی دانے کو روزانہ کی بنیاد پر کھانے سے کئی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

سوزش اورانفیکشن کا علاج رائی دانوں میں سیلینیوم ہوتا ہے، جودمےکےحملوں اورجوڑوں کےگٹھیا کےدرد کی شدت کوکم کردیتا ہے۔ اس کےعلاوہ رائی دانےمیں موجود میگنیشیم فشارخون کوکم کرتا ہےاوریہ آدھےسرکے درد کی شدت میں بھی کمی کرتا ہے۔ رائی دانےسوزشوں بالخصوص چنبل کےنتیجےمیں ہونےوالےزخموں اورانفیکشنزکا مقابلہ کرنےکی بھرپورصلاحیت رکھتےہیں۔ رائی دانوں کی یہ خاصیت ہےکہ یہ نزلےکی شدت کوکم کرتےہیں اورسانس کی نالی میں تنگی سےنجات حاصل کرنےمیں مدد دیتےہیں۔ اگرکسی کوسانس لینےمیں دشواری پیش آتی ہےتووہ رائی کےبیج چبالے۔ ہاضمےکی بہتری کےلیےبھی رائی دانہ بہترین سمجھا جاتا ہے،کیونکہ یہ ہاضمےکا عمل بہتربناتےہیں اور ہاضمےکےمسائل کوکم کرتےہیں۔

اس کےعلاوہ یہ عمومی صورت میں انسانی جسم می میٹابولزم کےعمل کوبھی مضبوط بناتےہیں۔ کیلشیم اورمیگنیشیم سےبھرپورہونےکےپیشِ نظریہ عمربڑھنےکےساتھ خواتین کوہڈیوں سےمتعلق مسائل سےمحفوظ رکھتےہیں۔ رائی دانوں کےاندرایسےخامرے enzymes پائے جاتے ہیں جوقولون یعنی بڑی آنت کےسرطان کوروکتےہیں، یہ سرطانی خلیوں کوبڑھنےاورپیدا ہونےسےروکنےکی بھی صلاحیت رکھتےہیں۔ اس کےعلاوہ اگرآپ کمرکےدرد یا پٹھوں کی اکڑن کےمسئلےسےدوچارہیں توآپ کوچاہیےکہ رائی دانےچبائیں، کیونکہ یہ درد میں کمی لاتے ہیں اورپٹھوں کی سختی اورسوجن کوبھی کم کرتےہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button