صحت

میٹھی چیزیں کھانے کےنقصانات منظرعام پرآگئے

قدرتی مٹھاس کا بھی زیادہ استعمال قوت مدافعت کمزوربنا کرمتعدد بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے

میٹھی چیزیں کھانے کےنقصانات منظرعام پرآگئے،تازہ ترین نئی تحقیق کےنتیجےمیں یہ بات سامنےآئی ہےکہ غذا میں شوگریا قدرتی مٹھاس کا بھی زیادہ استعمال قوت مدافعت کمزوربنا کرمتعدد بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ طبی وغذائی ماہرین کےمطابق قدرتی مٹھاس،شوگریعنی کہ ’فرکٹوز‘زیادہ ترمیٹھےمشروبات،میٹھےکھانوں،پروسیسڈ غذاؤں میں پایا جاتا ہے،ان غذاؤں کےزیادہ استعمال سےانسانی جسم میں موجود بیماریوں کےخلاف اوربیماریوں سےبچانےوالا نظام قوت مدافعت کمزورپڑجاتا ہےاورانسان متعدد بیماریوں میں گِھرجاتا ہے ۔

لندن کےصحت عامہ سےمتعلق جریدے ’جرنل آف نیچرکمیونیکیشن ‘ میں شائع ہونےوالی ایک رپورٹ کےمطابق پروسیسڈ سمیت قدرتی میٹھی غذاؤں میں بھی پائےجانےوالا جُزفرَکٹوزانسانی صحت کےلیےنہایت مضرہے،اس کےزیادہ استعمال کےنتیجےمیں موٹاپے،ذیابطیس ٹائپ ٹو، جگرکےمتاثراوربڑھ جانےکےخدشات میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ ماہرین کےمطابق فرَکٹوزسےبھرپوزغذاؤں کےاستعمال کےنتیجےمیں جسم میں سوجن کےخدشات بھی بڑھ جاتےہیں،جسم کےاعضا میں سوجن یا سوزش کا ہوجانا خطرناک علامات میں سےایک ہے۔

محققین کےمطابق سوجن کےسبب انسانی خلیےٹوٹ پھوٹ کا شکارہوتےچلےجاتےہیں جس کےنتیجےمیں انسان متعدد بیماریوں کا شکارہوجاتا ہے۔ تحقیق کےنتیجےمیں مٹھاس سےمتعلق سامنےآنےوالےنئےانکشاف پرطبی وغذائی ماہرین کی جانب سےانسانی صحت کےلیےمیٹھے مشروبات اورپروسیسڈ غذاؤں کوسب سےزیادہ خطرناک اورمضرصحت قراردیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button