صحت

بچوں میں آئرن کی کمی کیسے پوری کی جائے؟

آئرن ایک معدنی شے ہے اور ہر شخص کےجسم کو اپنا کام کرنے اور ہیموگلوبن بنانے کے لیے اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہیموگلوبن خون میں سرخ جرثومے ہوتے ہیں جو آکسیجن کو جسم کے دوسرے حصوں میں پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔ اگر بچے کے جسم میں آئرن کی کمی ہو جائے تو اسے انیمیا کہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بچے کا رنگ پیلا ہوجاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو کمزور، تھکا ہوا اور چڑچڑا محسوس کرتا ہے۔

بچوں کو بڑا ہونے کے لیے لگاتار آئرن کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ جسم میں آئرن کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ ایسے بچے جو آئرن والی خوراک نہیں کھاتے یا پھر بعض بچوں کا جسم آئرن لینے سے انکار کر دیتا ہے، انہیں انیمیا ہو جاتا ہے۔

یعنی ایک دن میں20اونس یا570ملی لیٹر یا زیادہ جوس پلانا یعنی ایک دن میں 4اونس یا 115ملی لیٹرسے زیادہ، بچے چونکہ کم آئرن والی خوراک سے پیٹ بھر لیتے ہیں، اس لیے ان کے جسم میں آئرن کی کمی ہو جاتی ہے۔٭ دو سال کی عمر کے بعد بھی بوتل سے دودھ پینے والے بچوں کو انیمیا ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔٭ بچہ ایسی خوراک کھاتا ہے، جس میں آئرن کی مقدار کم ہوتی ہے۔

بڑا گوشت ( ہیمبرگر، بیف لیور، کارن بیف، اسٹیک)، چھوٹا گوشت جیسے کہ مرغی، ٹرکی (اس کے گوشت میں زیادہ آئرن ہوتا ہے)، مچھلی (ہیڈاک، ہالیبٹ، سامن، ٹونا)، ساسیجز، کلیمز یا اوسٹیر۔

آئرن حاصل کرنے والا فارمولا یا سیریل، گندم کی کریم، دلیہ، آئرن سے بھرے ناشتے کے سیریل، پھلیاں، کابلی چنے، مسور کی دال،پکے پکائے بین (کین کے اندر)، اوون میں پکے آلو (چھلکے سمیت)، خشک پھل، خشک خوبانی، خشک انجیر،میوے، پرون جوس، اعلیٰ قسم کا پاستا، اعلیٰ قسم کے چاول، سخت ٹوفو، گڑ کا شیرہ، بلیک اسٹریپ، بروکلی، پالک۔

جانوروں اور پودوں سے حاصل کی گئی خوراک میں آئرن پایا جاتا ہے۔ جانوروں سے حاصل کیا گیا آئرن ہیمی آئرن کہلاتا ہے۔ پودوں سے حاصل کیا گیا آئرن نان- ہیمی آئرن کہلاتا ہے۔ ہمارا جسم نان- ہیمی آئرن کی نسبت ہیمی آئرن کو زیادہ اچھی طرح سے جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

نومولود : ماں کے دودھ سے بچے 4 سے 6 مہینے کی عمر تک انیمیا سے بچے رہتے ہیں، اس کے بعد بچوں کو دیگر ذرائع سے آئرن کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے کہ آئرن سے بھرے سیریل اور گوشت وغیرہ۔ اگر آپ نے بچے کو بوتل کا دودھ پلانے کا فیصلہ کیا ہے تو اسے ایک سال کی عمر تک آئرن والا دودھ پلائیے۔

بچے اور نو مولود: ایسے بچے جو کہ بہت زیادہ دودھ یا جوس پیتے ہیں، انہیں خون کی کمی یا انیمیا کی شکایت ہو جاتی ہے۔ دو سال کی عمر سے زیادہ کے بچوں کو زیادہ آئرن فراہم کرنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کریں :

٭ بچے کی بوتل چھڑوائیں اور کپ سے دودھ دینا شروع کریں۔٭ دن میں دو کپ سے زیادہ دودھ نہ دیں یعنی 16اونس یا 450 ملی لیٹر۔٭ ہر روز آئرن سے بھرپور خوراک دیں۔آئرن کی کمی دور کرنے کے لیے بچے کو سپلیمنٹ (فیرس سلفیٹ) دینا ضروری ہے، جس کے لیے بچوں کے ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ آئرن سپلیمنٹ وٹامن سی کے ساتھ دیں تو وہ جلدی ہضم ہوجاتا ہے یا پھر اسے خالی پیٹ دیاجائے۔ اگر کھانے کے ساتھ دیا جائے تو اس کا اثر کم ہو جاتا ہے۔ آئرن سپلیمنٹ دودھ یا دودھ سے بنی کسی شے کے ساتھ نہ دیا جائے۔

بچوں کو روزانہ دو کپ سے زیادہ گائے کا دودھ نہ دیں (16اونس یا 450ملی لیٹر)۔ جوس آدھا کپ سے ایک کپ روزانہ(4سے 8اونس)۔ ہر روز گائے، بکرے کا گوشت، ڈارک ٹرکی یا کلیجی، گردے وغیرہ دیں، سیریل، ڈبل روٹی، چاول، پاستا، جس کے اوپر ‘ اِنرچڈ ‘ یا فورٹیفائیڈ ‘ کے الفاظ لکھے ہوں، روزانہ دیں۔ آپ مندرجہ ذیل اشیاء بھی دے سکتے ہیں

ایسی خوراک کے ساتھ سٹرس فروٹ (مالٹا، چکوترا، ٹماٹر) دیجیے جس سے آئرن کی مقدار بڑھ جاتی ہے، مثال کے طور پر برگر کے ساتھ مالٹے کا رس، مالٹے کو گوشت کے اوپر نچوڑ کر دیں، مرغی بروکلی کے ساتھ، اسپگیٹی، میٹ بال اور ٹماٹر کی چٹنی کے ساتھ، کین یا ڈبے کے اندر پھلیوں یا مٹروں سے جو پانی نکلے اسے سوپ، سالن یا اسٹیو میں استعمال کیجیے۔

خشک میوہ جات (کشمش، پران، کھجور، خوبانی) سیریل پر چھڑک کر کھلائیں، میوہ جات کو لنچ، میٹھے، اور گرم دودھ کے سیریل میں ملا کر کھلائیں۔ ٹماٹر اور پاستا سوس میں بڑا گوشت ملا کر بنائیں، میکرونی اور پنیر میں بڑا گوشت ملا کر پکائیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button