صحت

پر سکون نیند کی تلاش۔۔۔۔ لیکن کیسے؟

ہم اپنی روزمرہ زندگی میں بہت سے لوگوں کو نیند سے متعلق مسائل کا شکار دیکھتے ہیں۔ 

کچھ لوگ نیند میں بے چین رہنے کی شکایت کرتے ہیں تو کچھ کو سونے کے دوران خواب بہت زیادہ آتے ہیں جس کی وجہ سے نیند پوری کرنے کے باوجود تھکاوٹ کا شکار رہتے ہیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ خواب آور ادویات کے بجائے ہمیں زندگی گزارنے کا انداز تبدیل کرنا چاہیئے تاکہ ہم پرسکون نیند سے لطف اٹھائیں۔ڈاکٹرز نے کئی ایسے روزہ مرہ کاموں کی نشاندہی کی ہے جو نیند کو متاثر کرتے ہیں۔

میٹھے کا کم استعمال

ایک حد سے زیادہ میٹھے کا استعمال صارفین کو رفتہ رفتہ بے خوابی کی طرف لے جاتا ہے۔کوشش کریں کہ شام 5 بجے بعد چینی والی خوراک یا مشروب استعمال نہ کریں تاکہ پرسکون نیند کا لطف اٹھا سکیں۔

کیفین

دن بھر کام کرنے والے افراد کی کثیر تعداد خود کو فعال رکھنے اور ذہنی استعداد بڑھانے کے لیے کافی یا چائے کا سہارا لیتی ہے جس سے ہمارے جسم میں کیفین کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔کیفین کی جگہ پانی کا استعمال کر کے ہم رات بھر پرسکون نیند حاصل کر سکتے ہیں۔

ورزش

زندگی کی رفتار جتنی تیز ہو رہی ہے انسان کو اپنے لیے وقت نکالنے میں اتنی ہی مشکلات کا سامنا ہے۔ پرسکون نیند کے لیے ضروری ہے کہ آپ دن میں کم سے کم 20 منٹ پیدل چلیں۔ پیدل چلنا نہ صرف پرسکون نیند کے لیے مفید ہے بلکہ اس سے  دل کی دھڑکن بھی معمول پر رہتی ہے۔

پھلوں کا استعمال

روزمرہ زندگی میں پھلوں کا وافر استعمال بھی بے خوابی سے چھٹکارا دلانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ کیلا ایسا پھل ہے جسے خوراک کا حصہ بنا کر نیند کی کمی دور کی جا سکتی ہے۔ ماہرین نے کیلے کے چھلکے کی چائے کو بے خوابی کے علاج کے لیے مفید قرار دیا ہے۔

جڑی بوٹیوں والی چائے

اکثر جڑی بوٹیوں سے بنی چائے بھی بے خوابی ختم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ جب فلیونائڈ کی کمی کی وجہ سے نیند نہ آتی ہو۔ یہ چائے دواؤں کی دکان سے بہ آسانی مل جاتی ہے۔

کتاب پڑھیں

آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ کچھ لوگ کتاب پڑھتے ہوئے فوراً سو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا دماغ اس بات پر کاربند ہے کہ جیسے ہی کتاب پڑھی جائے گی تو اس کا مطلب ہے کہ یہ سونے کا وقت ہے۔آپ بھی اسی طرح کا کوئی معمول بنا سکتے ہیں۔ جس وقت نیند نہ آ رہی ہو اس وقت کتاب پڑھنا شروع کر دیں۔

موبائل کا استعمال

طبی ماہرین کے مطابق سونے سے ایک گھنٹہ قبل موبائل فون کا استعمال ترک کردینا چاہیئے۔ موبائل سرہانے رکھ کر سونا بھی نقصان دہ ہے، اسے کم سے کم تین سے چار فٹ کے فاصلے پر رکھ کر سونا چاہیئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button