صحت

یہ دالیں کھائیں اور موٹاپا دور بھگائیں

ماہرین نے وزن کم کرنے کیلئے دالیں استعمال کرنے کو فائدہ مند قرار دیا ہے۔

آئیے جانئے وہ کونسی دالیں ہیں ، جنہیں ورزش کے ساتھ ساتھ وزن کم کرنے کیلئے استعمال کیا جائے تو فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں ۔

مونگ کی دال:

پیلے رنگ والی مونگ کی دھلی ہوئی اس دال میں پروٹین اور فائبر کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے ۔ اسے سادہ انداز میں پکاکر روٹی کے ساتھ کھایا جاسکتا ہے ، چاہیں تو اس کی مدد سے کھچڑی بناکر کھائیں ۔مونگ کی بغیر چھلی ہوئی دال سے عموماً کھچڑی بنائی جاتی ہے ، اس سے تیار کردہ کھچڑی میں غذائیت بھی ہوتی ہے اور اس سے انسان کا پیٹ بھی بھر جاتا ہے ۔ہفتے میں دو سے تین مرتبہ اس دال کو سادہ انداز میں پکاکر کھائیں ، تیل کا استعمال کم کریں ، دال کے اوپر تڑکہ نہ لگائیں ، ساتھ ہی کھچڑی میں بھی تڑکہ لگائے بغیر ہی کھائیں ۔ہفتے میں دو دن یہ دال سادہ چپاتی کے ساتھ کھائیں تو کسی اور دن کھچڑی کی صورت میں کھالیں۔

مسور کی دال:

یہ دال اکثر لوگوں کو اپنے ذائقے کی وجہ سے بہت پسند ہوتی ہے ۔اس دال میں فائبر زیادہ ، فیٹ اور کاربوہائیڈریٹ کم ہوتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے وزن کم کرنے کے شوقین افراد کیلئے یہ دال بہترین ہے۔غذائیت سے بھرپور اس دال میں وٹامنز، منرلز بھی موجود ہوتے ہیں ۔ 100 گرام مسور کی دال میں 352 کیلوریز ہوتی ہیں ۔اس دال کو سادہ انداز میں پکاکر چپاتی کے ساتھ کھائیں ، کچھ عرصے تک اسی طرح اس کا استعمال جاری رکھیں تو اس کی مدد سے کئی کلو تک وزن کم کیا جاسکتا ہے۔

ارہڑ کی دال:

اس دال میں بھی پروٹین کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے ، ساتھ ہی اسے کھا لیا جائے تو معدے پر بوجھ بھی محسوس نہیں ہوتا ۔اس دال کو بھی ہفتے میں کئی دن سادہ انداز میں پکاکر آرام سے کھایا جاسکتا ہے۔ دالوں میں پروٹین کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ اسے ہفتے کے سات دن آرام سے مختلف اوقات میں کھایا جاسکتا ہے ۔وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد اپنی صحت کو مدنظررکھتے ہوئے اس کا استعمال کریں ۔ دال کھانے سے پیٹ بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے اور انسان کو مزید کھانے کی خواہش نہیں ہوتی۔

ضروری احتیاط

سوچ لیں کہ وزن کم کرنا ہے تو پھر فرائڈ فوڈ، فاسٹ فوڈ وغیرہ اس دوران ہرگز نہ کھائیں ۔ دال سبزیوں کی جانب ہی توجہ رکھیں ، یہ روٹین مشکل ضرور لگے گی تاہم اس کی مدد سے کچھ عرصے میں کئی کلو تک وزن کم کیا جاسکتا ہے۔

وہ لوگ جنہیں دال کھانا راس نہیں آتا، وہ پھر اسے کھانے سے اجتناب کریں یا ڈاکٹر سے اس سلسلے میں مشورہ کریں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.