صحت

چینی کا زیادہ استعمال جان لیوا کیوں ہوسکتا ہے؟ حیران کن تحقیق سامنے آگئی

مصنوعی مٹھاس کے استعمال سے بھی ذیابیطس ٹائپ 2 اور امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ معدے میں موجود بیکٹریا پر اثرانداز ہوتا ہے

چینی کا زیادہ استعمال جان لیوا کیوں اور کیسے بن سکتا ہے ؟ اس حوالہ سے حیران کن تحقیق سامنے آنے پر سب حیران کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ چینی کے بہت زیادہ استعمال کے نقصانات کا علم تو بیشتر افراد کو ہے مگر سویٹنر جیسے مصنوعی میٹھے کا استعمال بھی حل نہیں۔ حالیہ تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کے استعمال سے بھی ذیابیطس ٹائپ 2 اور امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ معدے میں موجود بیکٹریا پر اثرانداز ہوتا ہے۔ چونکہ یہ بھی میٹھا ہی ہے تو اس کے استعمال سے بھی زیادہ میٹھا کھانے کی خواہش بڑھتی ہے۔ مٹھاس کی یہ قسم الٹرا پراسیس غذاں میں پائی جاتی ہے اور اس طرح کی غذاں کا زیادہ استعمال امراض قلب، ذیابیطس ٹائپ 2، کینسر اور موت کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

موجودہ عہد میں میٹھی غذائیں بہت سستی ہوگئی ہیں اور آسانی سے دستیاب ہیں، یہی وجہ ہے کہ غذاؤں اور مشروبات میں لوگ بہت زیادہ چینی جسم کا حصہ بنارہے ہیں۔ مگر یہ قدرتی نہیں بلکہ انسان کی تیار کردہ پراڈکٹ ہے اور اس کا بہت زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہے، کیونکہ یہ موٹاپے، ذیابیطس ٹائپ 2 کا شکار بنانے کے ساتھ ساتھ دانتوں کے لیے تباہ کن ہے۔ چینی کے استعمال سے صحت کو ہونے والے نقصانات کے خدشات کے باعث سویٹنرز کو بھی تیار کیا جارہا ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ غذاؤں اور مشروبات میں چینی اور سویٹنر کا استعمال ایک دہائی میں بہت زیادہ بڑھ گیا ہے بالخصوص متوسط آمدنی والے ممالک میں۔ تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں سویٹنر کا استعمال 36 فیصد جبکہ چینی سے تیار غذاں کا استعمال 9 فیصد بڑھ گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک بالغ مرد کو دن بھر میں 9 چمچ سے کم چینی کا استعمال کرنا چاہیے جبکہ خواتین کے لیے یہ مقدار 6 چمچ سے کم ہے۔ مگر دنیا بھر میں لوگ اس سے کافی زیادہ مقدار روزانہ کی بنیاد پر جزوبدن بناتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.