صحت

ایک گرام نمک کم کھانے کے کیا فوائد ہیں؟ نئی تحقیق سامنے آگئی

ایک گرام نمک کم کرنا سالانہ امراض قلب اور فالج کے 90 لاکھ کیسز کی روک تھام کرسکتا ہے جبکہ 40لاکھ زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں

دن بھر میں محض ایک گرام نمک کم کھانا امراض قلب اور فالج کا خطرہ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے اس حوالہ سے ایک نئی تحقیق سامنے آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق جرنل بی ایم جے نیوٹریشن پریونٹیشن اینڈ ہیلتھ کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ صرف چین میں ہی روزانہ کی غذا میں ایک گرام نمک کم کرنا سالانہ امراض قلب اور فالج کے 90 لاکھ کیسز کی روک تھام کرسکتا ہے جبکہ 40لاکھ زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔ دنیا میں زیادہ نمک استعمال کرنے والے بڑے ممالک میں چین بھی شامل ہے جہاں ایک فرد اوسطا 11 گرام نمک روزانہ استعمال کرتا ہے۔ غذا میں نمک کا زیادہ استعمال بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے جس سے امراض قلب بشمول ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔ اس تحقیق میں یہ جائزہ لیا گیا تھا کہ کسی ایک ملک میں نمک کی مقدار میں کمی لانے سے صحت کے کیا فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے 3 مختلف طریقہ کار کو مدنظر رکھ کر تخمینے لگائے گئے۔ پہلے طریقہ کار کے تحت اندازہ لگایا گیا کہ ایک سال تک روزانہ کی غذا میں نمک کی مقدار میں ایک گرام لانے سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح 2025 تک 3.2 گرام روزانہ کی کمی کا اثر کیا ہوسکتا ہے یا 2030 تک دن بھر میں نمک کی مجموعی مقدار 5 گرام سے بھی کم کرنا کس حد تک فائدہ مند ہوسکتا ہے۔ محققین نے تخمینہ لگایا کہ روزانہ محض ایک گرام نمک کی کمی سے بلڈ پریشر کی سطح میں کمی آتی ہے جس سے ہارٹ اٹیک، فالج اور امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

اس سے قبل حال ہی میں جرنل ہارٹ میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ نمک کا بہت زیادہ استعمال بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے جبکہ دل کی شریانوں کو نقصان پہنچاتا ہے جس سے جلد موت کا خطرہ بڑھتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ لوگ نمک کے کسی متبادل کو استعمال کرکے صحت کو لاحق ہونے والے متعدد خطرات کو کم کرسکتے ہیں۔ اس تحقیق میں 32 ہزار افراد پر 21 طبی ٹرائلز کرکے نمک کے متبادل کے اثرات کی جانچ پڑتال کی گئی۔ محققین نے دریافت کیا کہ نمک کے متبادل سے ہر عمر اور وزن کے افراد میں بلڈ پریشر کی سطح میں کمی آتی ہے۔ تحقیق میں نمک کے مختلف متبادل جیسے پوٹاشیم کلورائیڈ کا استعمال کیا گیا اور دریافت ہوا کہ اس سے کسی قسم کے مضر اثرات کا سامنا نہیں ہوتا، البتہ یہ گردوں کے امراض کے شکار افراد کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے تو معالج کے مشورے سے استعمال کرنا چاہیے۔ تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ نمک کے متبادل کو غذا کا حصہ بنانے سے ہارٹ اٹیک، فالج اور کسی بھی وجہ سے جلد موت کا خطرہ 11 سے 13 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

اس سے قبل جولائی میں یونیورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ اینڈ ٹروپیکل میڈیسین کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کھانے میں اوپر سے نمک چھڑکنے اور جلد موت کے درمیان تعلق موجود ہے۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کھانوں میں نمک کا اضافہ مردوں کی زندگی میں 2 سال جبکہ خواتین کی اوسط عمر میں ڈیڑھ سال کی کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ تحقیقی ٹیم نے بتایا کہ شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ لوگوں کو کھانے پر اضافی نمک چھڑکنے سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نمک کے استعمال میں معتدل کمی لانا بھی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ اس تحقیق میں 5 لاکھ سے زیادہ افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا جن کی غذائی عادات کی جانچ پڑتال اوسطا 9 سال تک کی گئی تھی۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کھانے پر نمک چھڑکنے سے قبل از وقت موت کا خطرہ 28 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.