صحت

روزانہ چند قدم چہل قدمی سے کون کون سی بیماری سے بچا جاسکتا ہے؟

ہر ہفتے 150 سے 300 منٹ چہل قدمی یا 75 سے 100 منٹ کی جاگنگ ہارٹ فیلیئر کا خطرہ دوتہائی حد تک کم کردیتی ہے

روزانہ چند قدم چہل قدمی سے کون کون سی بیماری سے بچا جاسکتا ہے؟ ہر ہفتے ڈھائی سے 5 گھنٹے چہل قدمی کرنے کی عادت ہارٹ فیلیئر کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرسکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق جرنل سرکولیشن میں شائع تحقیق میںشامل کسی فرد میں ماضی میں ہارٹ فیلیئر کی تشخیص نہیں ہوئی تھی یا ہارٹ اٹیک کا سامنا نہیں ہوا تھا۔ ان افراد کی مانیٹرنگ 6 سال تک کلائی پر موجود ٹریکر کے ذریعے کی گئی جس سے جسمانی سرگرمیوں کے دورانیے اور شدت کو جاننے کا بھی موقع ملا۔ 6 سال بعد دیکھا گیا کہ کتنے افراد میں ہارٹ فیلیئر کی تشخیص ہوئی۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنانے سے اس جان لیوا بیماری کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق ہر ہفتے 150 سے 300 منٹ کی معتدل جسمانی سرگرمیوں سے ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 63 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہر ہفتے 75 سے 150 منٹ کی سخت جسمانی سرگرمیوں یا جاگنگ سے یہ خطرہ 66 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ کچھ وقت کی جسمانی سرگرمیوں سے بھی دل کی صحت کو کسی حد تک فائدہ ہوتا ہے۔ محققین نے کہا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ 10 منٹ تک آرام سے کی جانے والی چہل قدمی بھی بیٹھ کر وقت گزارنے سے بہت زیادہ بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ممکن ہو تو چہل قدمی کی رفتار کو بڑھا لیں جس سے زیادہ فائدہ ہوسکے گا۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہر ہفتے 150 سے 300 منٹ چہل قدمی یا 75 سے 100 منٹ کی جاگنگ ہارٹ فیلیئر کا خطرہ دوتہائی حد تک کم کردیتی ہے۔ اس تحقیق میں 95 ہزار افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا کہ معتدل سے سخت جسمانی سرگرمیوں سے دل کی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ہارٹ فیلیئر ایسی طویل المعیاد بیماری ہے جس کے دوران جسم کے لیے دل مناسب مقدار میں خون پہنچانے سے قاصر ہوجاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ جسمانی سرگرمیوں سے موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس ٹائپ 2 کی روک تھام ہوتی ہے اور یہ سب ہارٹ فیلیئر کا خطرہ بڑھانے والے عناصر ہیں۔ تحقیق کے مطابق جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنانا دل کے پٹھوں کو مضبوط بناسکتا ہے۔ اس سے قبل بھی تحقیقی رپورٹس میں ورزش اور دل کی بہتر صحت کے درمیان تعلق کو دریافت کیا جاچکا ہے مگر اس نئی تحقیق میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ذریعے جسمانی سرگرمیوں سے دل پر مرتب ہونے والے اثرات کی جانچ پڑتال کی گئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.