صحت

نیند کی کمی کے باعث انسان میں کون کونسے امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے ؟ نئی طبی تحقیق سامنے آگئی

ابتدائی 6 ہفتوں تک اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ تمام افراد کی نیند کا دورانیہ 7 سے 8 گھنٹے ہونا چاہیے' امریکی سکول میں نئی طبی تحقیق

نیند کی کمی کے باعث انسان میں کون کونسے امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے ؟ نئی طبی تحقیق سامنے آگئی ‘ نیند کی کمی سے جسم اندرونی طور پر کمزور ہوتا ہے اور مختلف امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق امریکا کے ICahn اسکول آف میڈیسین کی تحقیق میں 14 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کو نیند کے مسائل کا سامنا نہیں تھا۔ ان افراد میں ٹریکر کے ذریعے نیند کے معیار اور دورانیے کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے دوران ابتدائی 6 ہفتوں تک اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ تمام افراد کی نیند کا دورانیہ 7 سے 8 گھنٹے ہو (جس کا مشورہ طبی ماہرین کی جانب سے بھی دیا جاتا ہے)۔

اس کے بعد مزید 6 ہفتوں تک ہر رات ان افراد کی نیند کے دورانیے کو 90 منٹ تک کم کیا گیا۔ دونوں مراحل کے اختتام پر رضاکاروں کے خون کے نمونے اکٹھے کرکے مدافعتی خلیات کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ پہلے مرحلے میں لوگوں میں کسی قسم کی منفی تبدیلیاں نہیں آئیں، مگر نیند کا دورانیہ کم ہونے پر مخصوص مدافعتی خلیات کی سرگرمیاں بڑھ گئیں۔ محققین نے بتایا کہ نیند کی کمی سے مونوسائیٹ نامی مدافعتی خلیات پر منفی اثرات مرتب ہوئے جس سے جسم میں ورم پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا۔ تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ زیادہ عرصے تک نیند کی کمی سے جینز کے افعال پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہم کسی بیماری کے خطرے کی تصدیق تو نہیں کرتے مگر ورم پھیلنے سے مختلف امراض کا خطرہ بڑھتا ہے، اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ مدافعتی خلیات مختلف انداز سے کام کرنے لگتے ہیں جن سے دل کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیند کی کمی سے ڈی این اے میں آنے والی تبدیلیاں بظاہر مستقل ہوتی ہیں اور دوبارہ مناسب وقت تک سونے سے بھی صورتحال بدلتی نہیں۔ اس تحقیق کے نتائج جرنل آف Experimental Medicine میں شائع ہوئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.