صحت

شہد کھانے کےجسم پرکیا اثرات مرتب ہوتےہیں؟

اچھی بات یہ ہے کہ اس عادت سے بلڈ شوگر اور کولیسٹرول کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے

اگر آپ کو شہد کھانا پسند ہے تو اچھی بات یہ ہے کہ اس عادت سے بلڈ شوگر اور کولیسٹرول کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ بات کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ ٹورنٹو یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ شہد کھانے سے میٹابولک امراض (بلڈ شوگر اور ذیابیطس وغیرہ)  اور امراض قلب سے تحفظ مل سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر شہد خام ہو تو وہ زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔

تحقیق میں شہد کے استعمال سے جسم پر مرتب اثرات پر ہونے والے تحقیقی کام کا تجزیہ کیا گیا۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ شہد کھانے کی عادت سے خالی پیٹ بلڈ گلوکوز، نقصان دہ ایل ڈی ایل کولیسٹرول، خون میں چکنائی اور جگر پر چربی چڑھنے کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ صحت کے لیے مفید ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح بڑھتی ہے۔

محققین نے بتایا کہ نتائج کافی حوصلہ افزا ہیں کیونکہ شہد کا 80 فیصد حصہ مٹھاس پر مبنی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہد میں شکر، پروٹین، نامیاتی ایسڈز اور دیگر مرکبات کا ایسا پیچیدہ امتزاج ہوتا ہے جو صحت کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ ماضی میں ہونے والے تحقیقی کام میں ثابت ہوا تھا کہ شہد سے میٹابولزم افعال اور دل کی صحت بہتر ہوتی ہے۔ محققین کے مطابق نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ شہد کو چینی کی طرح نقصان دہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ آپ بہت زیادہ مقدار میں شہد کھانا شروع کردیں، درحقیقت اسے چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کریں تو زیادہ بہتر ہے۔ اس تحقیق میں 18 کلینیکل ٹرائلز کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ ان ٹرائلز میں شامل افراد کو اوسطاً 40 گرام یا کھانے کے 2 چمچ شہد کا روزانہ استعمال کرایا گیا تھا۔

محققین کے مطابق اس حوالے سے تحقیق کو مزید آگے بڑھایا جائے گا اور شہد کی ایسی اقسام پر توجہ مرکوز کی جائے گی جن کو پراسیس نہیں کیا جاتا۔ اس تحقیق کے نتائج جرنل نیوٹریشن ریویوز میں شائع ہوئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.