انٹرنیشنل

امریکہ میں کورونا سے ہلاکتوں میں اضافہ، معیشت بھی غیر مستحکم

مہلک کرونا وائرس امریکا میں ایک لاکھ دوہزار ایک سو چودہ انسانی زندگیاں نگل چکا ہے

دنیا بھر میں کرونا کے وار جاری ہیں لیکن یہ مہلک وائرس امریکا میں تیزی سے تباہی پھیلا رہاہے جس سے ہلاکتوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس سے امریکی معیشت بھی غیر مستحکم ہو رہی ہے۔

مہلک کرونا وائرس امریکا میں ایک لاکھ دوہزار ایک سو چودہ انسانی زندگیاں نگل چکا ہے، جبکہ سترہ لاکھ پینتالیس ہزار نو سو گیارہ افراد متاثر ہیں،امریکا کے کرونا وارڈز میں متاثرین بھرے ہوئے ہیں،متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے،ایسے میں ویکسین کی تیاری ایک امید ہے۔ ڈاکٹر انتھونی فاوچی نے عوام سے سماجی دوری اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد برقرار رکھنے کی تلقین کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ اب بھی امید ہے کہ ویکسین کے ذریعے کرونا وائرس سے بچا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب امریکا اپنی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے احتیاطی تدابیرکے ساتھ اقدامات کررہا ہے،کاروباری سرگرمیاں بحال کی جارہی ہیں،سیلون پارلرز اور دیگر کاروبار کھول دیئے گئے ہیں جس سے ملکی معیشت کا پہیہ چلے گا،جبکہ آئیکونک سی ورلڈ بھی کھول دیا گیا ہے،ڈزنی لینڈ گیارہ جولائی کو کھولا جائیگا۔ جس کیلئے عوام کی محدود تعداد کو جانے کی اجازت ہوگی،چہرہ ڈھکا ہونا لازم ہے،سماجی دوری کا خیال رکھا جائے گا،ٹیمپریچر دیکھا جائے گا، ہیلتھ اسکریننگ ہوگی،شہریوں کیلئے احتیاطی تدابیر لازم ہیں ماسک،گلوز کے بغیر گزارا نہیں،ماسک ہر جگہ لازم ہے۔ نیویارک،واشنگٹن سمیت امریکا کی مختلف ریاستوں میں کاروبار کھولے جارہے ہیں،امریکا میں کرونا وائرس کا پہلا کیس 21 جنوری کو سامنے آیا تھا اور جس شخص میں اس وائرس کی پہلی بار تشخیص ہوئی تھی وہ چین کے سفر سے واپس آیا تھا۔ عالمی سطح پر اس وبا سے امریکا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

امریکا میں آئندہ صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدار جو بائیڈن نے ملک میں ایک لاکھ سے زیادہ ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اچھی منصوبہ بندی کی جاتی تو اتنی بڑی تعداد میں اموات سے بچا جا سکتا تھا۔ جوبائیڈن نے کولمبیا یونیورسٹی کی نئی ریسرچ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر حکومت 13 مارچ سے ایک ہفتے قبل ہی لاک ڈان اور بندشوں کا نفاذ کر دیتی تو کم سے کم 36 ہزار افراد کی زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔

Tags
Back to top button
Close