انٹرنیشنل

امتحان دینے والی طالبہ کے 4 ماہ کے بچے کو بہلانے والے استاد کی دھوم

ستاد نے یہ منظر دیکھا تو آگے بڑھے اور بچے کو گود میں لیا اور طالبہ کے پرچہ حل کرنے تک بچے کو دودھ پلا کر بہلاتے رہے

کابل یونیورسٹی میں امتحان دینے والی طالبہ کے روتے ہوئے بچے کو کمرہ امتحان کے نگران استاد نے سنبھال لیا اور یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائر ل ہوگئی۔

گذشتہ ہفتے کابل یونیورسٹی کے کمرہ امتحان میں پرچہ دینے آئی ایک طالبہ کا چار ماہ کا بیٹا رو رہا تھا اور وہ پرچہ حل کرنے کی بجائے اپنے بچے کو چپ کرانے میں مصروف تھیں، اس دوران نگران استاد نے یہ منظر دیکھا تو آگے بڑھے اور بچے کو گود میں لیا اور طالبہ کے پرچہ حل کرنے تک بچے کو دودھ پلا کر بہلاتے رہے۔

کسی نے استاد کی کمرہ امتحان میں بچے کو گود میں دودھ پلانے کی تصویر بنالی اور یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ کابل یونیورسٹی کے استاد محمود مرہون کے اس عمل کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔ یونیورسٹی کے استاد محمود مرہون نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا عمل انسانیت کے لیے تھا اور انہوں نے کوئی بڑ اکام نہیں کیا، یہ عمل انسانیت کا تقاضہ تھا۔ اس حوالے سے استاد محمود مرہون کا کہنا تھا کہ خواتین کا احترام اور ان کی مدد کرنا ہماری ثقافت کا حصہ ہے۔

Back to top button