انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

چین اور بھارت کے درمیان جنگ کے بادل چھاگئے،مودی سرکار پریشان

چین اور بھارت کے درمیان جنگ کے بادل چھاگئے،مودی سرکار پریشان،دونوں ملکو کی فوجوں میں کئی سال پرانا معاہدہ دم توڑ گیا،سرحد پر فائرنگ

چین اور بھارت کے درمیان 45برس بعد لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر بھارتی فوج کی فائرنگ ،بیجنگ کا جوابی اقدام ، چین نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر بھارتی فوجیوں کی خلاف ورزی اور فائرنگ کو سنگین فوجی اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بھارت اپنے فرنٹ لائن فوجیوں کو قابو کرے۔  بیجنگ نے نئی دہلی پر الزام لگایا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے دوطرفہ معاہدے کی خلاف ورزی کی اور چینی اہلکاروں کے ساتھ تصادم کے دوران ہوا میں انتباہی فائرنگ کی۔امریکی نیوز ایجنسی کے مطابق یہ دونوں ممالک کے درمیان 45برس بعد سرحد پر براہ راست فائرنگ کا پہلا واقعہ ہے ۔

غیر ملکی خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق چینی فوج کے مشرقی کمانڈ تھیٹر کے ترجمان ژینگ شوئلی کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ چینی سرحدی گارڈز نے صورتحال کو مستحکم کرنے کے لیے ʼجوابی اقدامات کیے۔ تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ اقدامات کیا تھے یا آیا چینی فوجیوں کی جانب سے بھی انتباہی فائرنگ کی گئی؟چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت لائن آف ایکچوئل کنٹرول پار کرنے والے فوجیوں کو فوری واپس بلائے، چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ لداخ میں بھارتی فوج نے پیر 7 ستمبر کو ایک بار پھر لائن آف ایکچوئل کنٹرول غیر قانونی طور پر عبور کی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارتی فوجی پینگ یانگ جھیل تک آئے اور چینی اہلکاروں پر فائرنگ کی، ترجمان چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق چینی فوج نے صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے جوابی کارروائی کی ہے۔ ادھربھارت نے سرحدی معاہدے کی خلاف ورزی کے چینی الزامات کو مسترد کیا اور یہ الزام لگایا کہ سرحدی کشیدگی کے دوران آمنے سامنے آنے پر چینی فوجیوں نے ہوائی فائرنگ کی۔ بھارتی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ یہ پی ایل اے (پیپلز لبریشن آرمی) ہے جو معاہدوں کی صریح خلاف ورزی کر رہی ہے اور جارحانہ مشقیں کر رہی ہے جبکہ عسکری، سفارتی اور سیاسی سطح پر رابطے جاری ہیں۔

Back to top button