انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

سعودی ولی عہد کی منافقت بے نقاب، سعودی عرب کا عرب ممالک کے خلاف فرانس کی حمایت کا اعلان

سعودی عرب نے فرانس اور کئی مسلم ممالک کے مابین کشیدگی کے پس منظر میں پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکوں کی اشاعت کی مذمت کی

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان کی منافقت بے نقاب ہو گئی اور سعودی عرب نے عرب ممالک کے خلاف فرانس کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق سعودی عرب نے فرانس اور کئی مسلم ممالک کے مابین کشیدگی کے پس منظر میں پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکوں کی اشاعت کی مذمت کی ہے۔ تاہم ریاض حکومت نے کئی دیگر مسلم ممالک کے فرانس کے خلاف اقدامات کے مطالبے کی حمایت نہیں کی۔سعودی عرب دنیا کا تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بھی ہے اور خلیج کے خطے کی سب سے بڑی سیاسی اور اقتصادی طاقت بھی۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے دو مقدس ترین مقامات بھی سعودی عرب ہی میں ہیں۔اس پس منظر میں دنیا کے متعدد مسلم اکثریتی ممالک اور مغربی دنیا کی نظریں اس طرف لگی ہوئی تھیں کہ یورپی یونین کے رکن ملک فرانس میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت اور پھر اسی تناظر میں فرانس اور ترکی کے مابین پیدا ہونے والے سیاسی تنازعے کو سامنے رکھتے ہوئے ریاض حکومت کیا موقف اختیار کرتی ہے۔اس سوال کا جواب آج منگل ستائیس اکتوبر کو اس وقت مل گیا جب سعودی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب ہر طرح کی بدامنی اور ٹیررازم کی مذمت کرتا ہے۔ ساتھ ہی ریاض میں وزارت خارجہ کے جاری کردہ اس بیان میں، جو سعودی عرب کے سرکاری میڈیا میں بھی شائع ہوا، یہ بھی کہا گیا، آزادی اظہار اور ثقافت کو ایسے احترام، باہمی برداشت اور امن کی وجہ بننا چاہیے، جو نفرت، جیسے رویوں کے تدارک میں مدد دے سکیں۔انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق سعودی حکومت نے فرانس میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کی مذمت تو کی ہے لیکن دو باتیں اہم ہیں۔ ایک تو ریاض حکومت نے اس موضوع پر ترکی اور فرانس کے مابین پیدا ہونے والے سیاسی تنا میں دونوں میں سے کسی ایک کی بھی یکطرفہ طور پر حمایت نہیں کی اور دوسرے یہ کہ کئی مسلم اکثریتی ممالک کے اس مطالبے میں بھی ان کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی کہ اس معاملے میں مل کر فرانس کے خلاف کوئی اقدامات کیے جانا چاہییں۔انہی خاکوں کی وجہ سے پیرس اور انقرہ کے مابین کھچا کا نتیجہ یہ بھی نکلا کہ ترک صدر ایردوآن نے فرانسیسی صدر ماکروں کے بارے میں جو کچھ کہا، اسے فرانس کے علاوہ پوری یورپی یونین نے بھی پسند نہ کیا اور اس پر سخت الفاظ میں ردعمل ظاہر کیا گیا۔ پھر فرانس نے ترکی سے اپنا سفیر بھی واپس بلا لیا۔اسی تنازعے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ کل پیر کے روز ترک صدر ایردوآن نے ٹیلی وژن پر اپنے خطاب میں یہ بھی کہہ دیا کہ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جانا چاہیے۔اس کے علاوہ پاکستان میں بھی، جہاں وزیر اعظم عمران خان نے اپنی ٹویٹس میں صدر ماکروں کے ان خاکوں سے متعلق موقف کی مخالفت کی تھی، ملکی پارلیمان نے ایک ایسی قرارداد بھی منظور کر لی ہے، جس میں اسلام آباد حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پیرس متعینہ پاکستانی سفیر کو واپس بلا لے۔

Back to top button