انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

سعودی ولی عہد کا انوکھا اقدام، سعودی عرب میں نئے انقلاب کی گونج‘ 16 ہزار مساجد کے اماموں کو نکالنے کافیصلہ، سب حیرت میں مبتلا ہو گئے

مساجد میں کوئی بھی ملازم چاہے وہ امام ہو، مبلغ ہو یا مسجد کی انتظامیہ‘اگر فرائض میں کوتاہی ہوئی تو اس کیخلاف مقدمہ چلے گا

سعودی ولی عہد نے انوکھا قدم اٹھاتے ہوئے 16 ہزار مساجد کے اماموں کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد سعودی عرب میں نئے انقلاب کی گونج اٹھنے لگی ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا رپورٹ کے مطابق سعودی وزیر اسلامی امور ڈاکٹر عبدالطیف الشیخ نے اپنی وزارت کے لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ جو کوئی بھی اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی برتے گا اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی ہوگی، انہوں نے کہا کہ مساجد میں کوئی بھی ملازم چاہے وہ امام ہو، مبلغ ہو یا مسجد کی انتظامیہ کا کوئی فردہو، اگر اس کی جانب سے فرائض میں کوتاہی ہوئی تو اس کیخلاف محکمہ نزاح (اینٹی کرپشن)میں مقدمہ چلے گا اور اسے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔ڈاکٹر الشیخ نے کہا کہ محکمانہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 16 اماموں کے منصب ایسے لوگوں نے سنبھال رکھے تھے جو اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی برت رہے تھے۔ان تمام افراد کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے جبکہ فوری طور پر ان کی جگہ نئے لوگوں کو بھرتی کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی مبلغ یا امام کے لیے یہ کیسے جائز ہے کہ وہ اپنے فرائض پورے نہ کرے اور ایسی تنخواہ لے جو اس کے لیے حرام ہے؟۔سعودی وزیر نے مزید کہا کہ ہر ایک کو چاہیے کہ و ہ اپنے کام کے ساتھ سنجیدہ رہے اور مساجد میں کوئی کام نہ کررہا ہو تو اس کی شکایت متعلقہ محکمے سے کرے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں مساجد کا انتظام وزارت اسلامی امور کے تحت ہے، اور مساجد میں کام کرنے والے تمام ملازمین اسی وزارت کو جوابدہ ہیں۔ سعودی عرب میں تمام مساجد حکومتی سرپرستی میں چلائی جاتی ہیں اور حکومت باقاعدہ ان مساجد کی نگرانی کرتی ہے۔

Back to top button