انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

بھارت کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی پر الزام لگا نا بھاری پڑ گیا‘ پوری دنیا میں مودی سرکار ایک مرتبہ پھر مذاق بن کر رہ گئی

اس گروپ نے گذشتہ دو سالوں کے دوران کئی جوانوں کو جعلی دستاویزات کی بنیاد پر بھارتی فوج میں نوکریاں دلوائیں

بھارت مضحکہ خیز اور بھونڈے دعوے کرنے میں سب سے آگے ہے، بھارت نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی پر الزام لگانا بھاری پڑ گیا اور مودی سرکار ایک مرتبہ پھر مذاق بن کر رہ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ملٹری انٹیلی جنس اور اتر پردیش پولیس کی ایک مشترکہ ٹیم نے ایک ایسا نیٹ ورک بے نقاب کیا جس میں ایک سابق فوجی، دو پولیس اہلکار اور پانچ دیگر لوگ شامل ہیں۔ بھارتی میڈیا کا دعوی ہے کہ اس گروپ نے گذشتہ دو سالوں کے دوران کئی جوانوں کو جعلی دستاویزات کی بنیاد پر بھارتی فوج میں نوکریاں دلوائیں۔ تفتیشی افسران کو اس بات کا شبہ ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی یا پھر ملک دشمن کوئی اور عناصر اس نیٹ ورک کو چلا رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ فی الوقت پولیس نے ایک سابق فوجی، ایک پولیس اہلکار اور تین مزید افراد کو گرفتار کیا ہے۔ سینئیر پولیس افسران اور ملٹری انٹیلی جنس کے نمائندوں کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے نوکریاں حاصل کرنے والے جوانوں کی تعداد 21 ہے۔

اترپردیش پولیس نے انٹیلی جنس بیورو کی مدد سے ان چار اضلاع میں جنوری 2019 سے بھرتی کیے جانے والے جوانوں کی دوبارہ تصدیق کا عمل شروع کر دیا ہے جہاں یہ نیٹ ورک متحرک تھا۔ بریلی رینج کے ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ ہم نے انٹیلی جنس بیورو اور دیگر سکیورٹی ایجنسیز کو بھی اس معاملے پر تحقیقات کرنے کا کہا ہے۔ میں اس کیس کو مانیٹر کر رہا ہوں اور تمام ایجنسیوں سے رابطے میں ہوں۔ پریس کانفرنس کے دوران ایس ایس پی شاہ جہاں پور نے کہا کہ نیٹ ورک میں ملوث افراد نوجوانوں کی بھرتیوں کی مد میں بھاری رقم بھی وصول کر رہے تھے۔ ہم نے گرفتار افراد سے 23 جعلی سرکاری مہریں بھی برآمد کی ہیں۔ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور اس میں کسی کو بھی رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نیٹ ورک میں آئی ایس آئی یا کسی دوسری ملک دشمن ایجنسی کے ملوث ہونے کا امکان نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

Back to top button