انٹرنیشنل

جارجیا کے انتخابی نتائج‘ صدر ٹرمپ پر ایسا الزام لگ گیا کہ ان کے بچنے کے امکانات ختم مگر انہوں نے کیا کام کیا تھا؟

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست جارجیا کے الیکشن کے ذمہ دران کو فون کر کے انہیں صدارتی انتخاب کا نتیجہ بدلنے پر زور دیا ہے

جارجیا کے انتخابی نتائج‘ صدر ٹرمپ پر ایسا الزام لگ گیا کہ ان کے بچنے کے امکانات ختم مگر انہوں نے ایسا کام کر دیا ہے امریکن سیاست میں نیا طوفان برپا ہوگیا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا نے صدر ٹرمپ اور جارجیا کے الیکشن افسرکے درمیان ہونے والی ایک طویل کال کی آڈیو لیک کی ہے جس میں صدر ٹرمپ جارجیا کے الیکشن افسر اور ری پبلکن سیکرٹری آف اسٹیٹ بریڈ ریفنسپرگر کو فون کر کے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے لیے 11 ہزار 780 ووٹوں کا انتظام کریں تاکہ ہم ریاست میں جیت سکیں ایک گھنٹہ طویل ہونے والی گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے بریڈ ریفنسپرگر پر حملے کیے اور انہوں نے ریاست میں تین مختلف مقامات پر ووٹوں کی گنتی کی درستگی پر اعتراض اٹھایا۔

جارجیا کے الیکشن حکام سے ہونے والی گفتگو سے متعلق صدر ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ انہوں نے بریڈ ریفنسپرگر سے فلٹن کانٹی میں ہونے والے ووٹنگ فراڈ پر بات کی تھی تاہم کال میں وہ اس فرق کوختم کرنے کے لیے 11ہزار سے ووٹ مانگ رہے ہیں جس سے جوبائیڈن کے ہاتھوں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا. صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بریڈ ان کے سوالات کے جواب نہیں دے سکے اور ان کے پاس مردہ لوگوں کے ووٹ ڈالنے، غلط بیلٹنگ اور خفیہ بیلٹ کی جعل سازی سے متعلق کوئی جواب نہیں تھا صدر ٹرمپ کی ٹوئٹ کے بعد بریڈ ریفنسپرگر نے اپنی جوابی ٹوئٹ میں کہا کہ صدر ٹرمپ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ درست نہیں جلد حقیقت سامنے آ جائے گییاد رہے کہ ریاست جارجیا میں 1992 کے انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ کسی ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار نے کامیابی حاصل کی ہے نو منتخب صدر جو بائیڈن نے جارجیا میں پاپولر ووٹ حاصل کرتے ہوئے تمام 16 الیکٹرول ووٹ حاصل کیے تھے تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن نے مجموعی طور پر 306 اور صدر ٹرمپ نے 232 الیکٹرول ووٹ حاصل کیے ہیں۔

اگر ریاست جارجیا کے 16 الیکٹرول ووٹ صدر ٹرمپ کو مل بھی جائیں تو ان کے مقابلے میں بائیڈن کے الیکٹرول ووٹ کی تعداد ملک کا صدر بننے کے لیے درکار مطلوبہ تعداد 270 سے زیادہ ہے صدر ٹرمپ انتخابات میں مسلسل دھاندلی کے الزامات عائد کر رہے ہیں اور نو منتخب امریکی صدر جوبائیڈن 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کی تیاری میں مصروف ہیں. کال میں صدر ٹرمپ کو ریاست جارجیا کے سیکرٹری آف سٹیٹ سے یہ مطالبہ کرتے سنا جا سکتا ہے کہ وہ نتائج ان کے حق میں پلٹنے کے لیے ووٹ ڈھونڈیں کال پر دوسری طرف سیکرٹری کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن کو ان پر گیارہ ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری حاصل ہے اور جارجیا میں ان کی جیت شفاف اور درست نتائج پر مبنی ہے ٹرمپ کی کال کا دورانیہ ایک گھنٹہ ہے امریکی صدر نے ریاست جارجیا کے نتائج تبدیل کرنے کا کہا جہاں ان کے حریف جو بائیڈن 11،779 ووٹوں کی برتری حاصل تھی ریاست جارجیا میں متعدد بار ووٹوں کی گنتی ہوچکی ہے ہر بار بائیڈن فاتح رہے ہیں ٹرمپ نے کال پر کہاتو دیکھو میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ صرف 11،780 ووٹ تلاش کرو، یہ ایک ووٹ زیادہ ہے کیونکہ ہم نے ریاست جیت لی ہیجارجیا کے سیکرٹری آف سٹیٹ نے جواب دیا جناب صدر مسئلہ یہ ہے آپ کے پاس اعدادوشمار غلط ہیں اس کال کے منظرعام پر آنے کے بعد امریکا کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے کئی سنیئرسیاسی راہنماؤں نے اسے شرمناک قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ امریکا کو تھرڈ ورلڈ ملک بنانا چاہتے ہیں ادھر آئینی وقانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں یہ فون کال ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے انتہائی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے اور ان پر آئین صدر کے اختیارات اور انتخابی قوانین کی خلاف ورزی جیسے سنگین جرائم کے تحت مقدمہ چل سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں